نیم برہنہ تصاویر شائع ہونے سے شاہی جوڑا افسردہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 12:17 GMT 17:17 PST
کیٹ مڈلٹن

شہزادہ ولیم اور ڈچیز آف کیمبریج کیٹ مڈلٹن فی الوقت ایشیاء کے دورے پر ہیں

برطانوی شاہی خاندان کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک فرانسیسی میگزین میں ڈچیز آف کیمبریج کیٹ کی نیم برہنہ تصاویر شائع ہونے سے کیٹ اور انکے شوہر شہزادہ ولیم کو دکھ پہنچا ہے۔

شاہی جوڑے نے میگزین کے اس عمل کو ان کی ذاتی زندگی میں بے ہودہ مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک فرانسیسی جریدے 'کلوزر' نے ڈچيز آف کیمبریج کیٹ مڈلٹن کی نیم برہنہ تصاویر شائع کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس جریدے نے یہ تصاویر بعض برطانوی اخبارات کو فروخت کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں ان اخبارات نے خریدنے سے انکار کردیا ہے۔

کلوزر میگزین نے یہ تصاویر اس وقت لی ہیں جب کیٹ مڈلٹن اور ان کے شوہر شہزادہ ولیم گزشتہ ہفتے ملکہ برطانیہ کے بھتیجے لورڈ لنلے کے فرانسیسی محل میں چھٹیاں منا رہے تھے۔

پرنس آف ویلز کے دفتر کے ترجمان نے کہا ہے ’ڈیوک اور ڈچيز کو یہ جان کر کافی تکلیف پہنچی ہے کہ ایک فرانسیسی میگزین اور اس کے فوٹوگرافر نے ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کی ہے جو کہ معقول بات نہیں ہے۔‘

بی بی سی کے پیرس بیورو کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو تھوڑا دھندلا کردیا گیا ہے لیکن ان کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑے لیز سے کھینچی گئی تصاویر ہیں اور تصویریں شاہی جوڑے کی ہی ہیں جو ان دنوں ایشیاء کے دورے پر ہیں۔

شاہی جوڑے کی یہ تصاویر چار صفحوں پر شائع کی گئی ہیں۔ ان تصاویر میں کیٹ نے صرف بکنی کا نیچے کا حصہ پہنا ہے اور ایک تصویر میں شہزادے ولیم ان کی برہنہ کمر پر سنسز کریم لوشن لگا رہے ہیں۔

شاہی ترجمان کے مطابق کولالمپور میں ناشتہ کے دوران شاہی جوڑے کو ان تصاویر کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شاہی خاندان کے وکلاء اس بات پر غور کررہے ہیں کہ فرانسیسی میگزين کے خلاف کیا قانونی قدم اٹھایا جائے۔

ان تصاویر کے سامنے آنے کے باوجود شاہی جوڑے کا ایشیاء کا نو روزہ دورہ جاری رہے گا۔

برطانیہ میں بی بی سی کے شاہی معاملات کے نامہ نگار پیٹر ہنٹ کا کہنا ہے ’شاہی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ تصاویر اصل میں شاہی جوڑے کی ہیں لیکن ہاں ان تصاویر کے شائع ہونے سے انہیں تکلیف پہنچی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ میگزین نے اپنی حد پار کی ہے اور شاہی جوڑے کو یہ یقین نہیں آرہا ہے کہ کوئی اس طرح سے ان کی تصاویر لے سکتا ہے اور اسے شائع بھی کرسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شہزادے ولیم نے اپنی ماں ڈائنا اور میڈیا کے پیچیدہ رشتے کو شدت سے محسوس کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاپارازی ان کی موت کی وجہ بن گئے۔‘

ڈچيز آف کیمبریج یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حال ہی میں ان کے دیور شہزادہ ہیری کی برہانہ تصاویر بعض اخبارات میں شائع ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔