نیویارک میں سوڈے کی بڑی بوتلوں کی فروخت پر پابندی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 11:21 GMT 16:21 PST

یہ پابندی میئر کی طرف سے قائم کیے گئے ایک بورڈ نے لگائی ہے

نیویارک میں پہلی مرتبہ ریسٹورانٹ اور ہوٹلوں میں سوڈے اور چینی سے تیار ہونے والے دیگر مشروبات کی بڑی بوتلوں کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ پابندی شہر کے میئر کی طرف سے مقرر کردہ صحت عامہ سے متعلق ایک آٹھ رکنی بورڈ نے عائد کی ہے۔ اس بورڈ کا ایک رکن بورڈ کے اس فیصلے میں شامل نہیں ہوا۔

نیو یارک شہر کے میئر مائیکل بلومبرگ نے کہا ہے کہ یہ پابندی شہریوں میں موٹاپے اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔

اس پابندی کے مخالفین نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیویارک شہر میں مشروبات بنانے والے صنعت کاروں کی معاونت سے چلنے والے ایک گروپ کے سربراہ اور تاجر لز برمن نے کہا ہے کہ ’ہم میں اتنی عقل ہے کہ ہم یہ فیصلہ خود کرسکیں کہ ہمیں کیا کھانا اور پینا ہے اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا ہے۔‘

اخبار نیو یارک ٹائمز کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق ساٹھ فیصد شہری اس طرح کی پابندی کے مخالف ہیں۔

یہ پابندی جو جمعرات سے نافذ کی گئی ہے اس کے مطابق ہوٹلوں اور ریسٹورانٹ پر سولہ آؤنس اور اس سے زیادہ مقدار میں سوڈے کی بوتلوں اور چینی سے تیارہ کردہ مشروبات کی فروخت نہیں کی جا سکے گی۔ لیکن اس کا اطلاق دکانوں اور روز مرہ استعمال کی اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں پر نہیں ہو گا۔

ڈائٹ سوڈا، شراب اور مشروبات جن میں ستر فیصد سے زیادہ جوس ہو گا وہ بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

جو ریسٹورانٹ اور ہوٹل اس پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے ان پر دو سو ڈالر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

شہر کے ہیلتھ کمشنر تھامس فارلے نے اس پابندی کو ایک تاریخ اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موٹاپے اور بیماریوں سے بچنے کی طرف یہ ایک اہم قدم ہے۔

نیویارک شہر امریکہ میں موٹاپے سے بچاؤ کے لیے شہری قوانین منظور کرنے میں ملک کے دوسرے شہروں کے لیے ایک مثال اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

نیویارک شہر امریکہ کا پہلا شہر ہے جہاں بڑے بڑے ریسٹوانٹس کو اپنے مینو میں شامل تمام پکوان کے ساتھ ان کا ’کیلوری کاونٹ‘ بھی دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ کے معاشی تعاون اور ترقی کے ادارے آرگنائزیشن فار اکانومک کارپوریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کے مطابق امریکہ کی ایک تہائی آبادی موٹاپے کا شکار ہے اور ملک کے صحت کے بجٹ کا تقریباً دس فیصد حصہ صرف موٹاپے اور اس سے متعلق بیماریوں کے علاج پر خرچ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔