اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج جاری

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 21:37 GMT 02:37 PST

مظاہروں کے نتیجے میں اسلامی ممالک میں قائم امریکی سفارت خانے چوکس ہیں۔

پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف مسلمان ممالک میں جمعے کو ہونے والے مظاہروں میں کم سے کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سوڈان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق تین افراد اس وقت ہلاک ہوئے جو مظاہرین نے خرطوم میں امریکی سفاترخانے پر حملہ کیا۔

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

تیونس میں مظاہرین کی جانب سے امریکی سفارتخانے کی حدود میں داخل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ مصر اور لبنان میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔

امریکہ میں بنائی گئی اس فلم میں پیغمبرِ اسلام کی کردار کشی کرتے ہوئے انہیں ایسے گروہ کا رہنما دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو قتل و غارت کا شوقین ہے۔

مظاہرین نے جرمنی اور برطانیہ کے سفارتخانوں پر بھی حملے کیے ہیں۔ جبکہ لبنان میں امریکی فاسٹ فوڈ ریستوران کے ایف سی کو آگ لگا دی گئی۔

جمعے کی نماز کے بعد مزید احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس نے امریکی سفارت خانے کے قریب جمع ہونے والے پانچ سو کے قریب مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔

گذشتہ منگل کو بن غازی میں واقع امریکی قونصل خانے پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں امریکی سفیر کرس سٹیونز اور دو دوسرے سفارت کار ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے دو ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بتایا کہ ان میں سے ایک امریکی بحریہ کے سابق سیل ٹائرون ووڈز اور دوسرے گلین ڈورتھی تھے جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بچاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

شون سمتھ ہلاک ہونے والے چوتھے فرد تھے جو امریکی محکمۂ خارجہ میں افسر معلومات تھے۔

اس حملے کے بعد سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عمومی بے چینی پائی جاتی ہے۔

قاہرہ کے تحریر چوک میں جمع ہونے والے مظاہرین کو پولیس نے امریکی سفارت خانے سے دور دھکیل دیا مگر بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کے مطابق ابھی بے چینی پائی جاتی ہے۔

"لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اس معاملے سے امریکی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی نے ایک فلم بنائی اور اسے یو ٹیوب پر ڈال دیا جو کہ یقینی طور پر توہین آمیز تھی لیکن اس کو جواز بنا کر امریکہ یا امریکی سفارت خانوں کے خلاف وحشیانہ اقدامات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لوگ باہر نکل سکتے ہیں اور احتجاج کر سکتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار پر امن طریقے سے کر سکتے ہیں۔"

لیبیا کے نو منتخب وزیر اعظم مصطفیٰ ابو شاقور

مصر میں اسلام پرست گروہوں کی جانب سے دس لاکھ افراد کے مارچ کا اعلان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پولیس نے امریکی سفارت خانے کے ارد گرد خار دار تار لگائی ہے اور آنے جانے کے راستے بند کر دیے ہیں۔

مصری صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی جانب سے بھی مساجد کے سامنے مظاہروں اور دھرنوں کا اعلان کیا گیا ہے لیکن امریکی سفارت خانے کے سامنے ایسی کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

امریکی صدر براک اوباما نے یقین دہانی کروائی ہے کہ بیرون ملک موجود امریکی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں کو امریکی شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

ایف بی آئی اور امریکی محکمۂ داخلی حفاظت نے تنبیہ کی ہے کہ ’جیسے یہ فلم توجہ حاصل کرتی جا رہی ہے، تشدد بڑھنے کا امکان ہے‘۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس فلم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس تشدد اور ان حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ نفرت انگیز فلم جان بوجھ کر تعصب اور خون خرابے کے بیج بونے کے لیے بنائی گئی ہے‘۔

لیبیا کے نو منتخب وزیر اعظم مصطفیٰ ابو شاقور نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ وہ قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں امریکہ اور لیبیا کے تعلقات خراب ہوں۔

"اس تشدد اور ان حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ نفرت انگیز فلم جان بوجھ کر تعصب اور خون خرابے کے بیج بونے کے لیے بنائی گئی ہے۔"

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون

بن غازی میں امریکی اور لیبیائی حکام اِن امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مسلح جنگجوؤں نے مظاہرے کی آڑ میں یہ حملہ نہ کیا ہو۔

لیبیائی حکام کے مطابق انہوں نے بہت سارے لوگوں کو حملہ کروانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

لیبیا کے وزیر اعظم نے حملے کا الزام مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں پر لگایا اور مزید کہا کہ اس تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اس معاملے سے امریکی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی نے ایک فلم بنائی اور اسے یو ٹیوب پر ڈال دیا جو کہ یقینی طور پر توہین آمیز تھی لیکن اس کو جواز بنا کر امریکہ یا امریکی سفارت خانوں کے خلاف وحشیانہ اقدامات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لوگ باہر نکل سکتے ہیں اور احتجاج کر سکتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار پرامن طریقے سے کر سکتے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔