توہین آمیز فلم: فلمساز حراست میں، تفتیش شروع

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 16:32 GMT 21:32 PST
نکولا اور امریکی حکام

امریکی حکام مشتبہ فلم ساز نکولا باسولی نکولا کو حراست میں لے کر لیجا رہے ہیں۔

پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنانے والے مشتبہ شخص نکولا باسولی نکولا کو امریکی حکام نے حراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ اس توہین آمیز فلم کے خلاف اسلامی ممالک میں بالعموم اور مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک میں بالخصوص پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گرفتار ہونے والے ملزم نکولا کا ماضی میں مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے۔

ماضی میں نکولا کو دوہزار دس میں ایک بینک سے دھوکہ دہی کے الزام میں ملزم ٹھہرایا گیا تھا اور انہیں اس شرط پر رہا کر دیا گیا تھا کہ وہ انٹرنیٹ تک رسائی نہیں حاصل کرسکیں گے اور انٹرنیٹ پر فرضی ناموں کا استعمال بھی نہیں کریں گے۔’

نکولا کو لوگوں کی چوری کی ہوئی شناخت کے ذریعے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے جرم میں اکیس ماہ کی سزا دی گئی تھی۔

اسی طرح انیس سو ستانوے میں نکولا کو منشیات کے استعمال کے جرم میں بھی مجرم قرار دیا گیا تھا۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ اس فلم کے بنانے کے پیچھے کون ہے لیکن اس فلم کو انٹرنیٹ پر انگریزی اور عربی زبان میں وسیع پیمانے پر جاری کیا گیا ہے۔

اس فلم کے چودہ منٹ کے پہلے کلپ کو ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر ڈالا گیا تھا اور یہ سیم بیسائل کے نام سے اس ویب سائٹ پر ڈالی گئی تھی۔

اسلام مخالف فلم کے نتیجے میں ہلاکتیں

جمعرات کو بن غازی، لیبیا میں امریکہ کے سفیر اور دیگر تین امریکی سفارت کاروں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ابھی تک سیم بیسل نام کے کسی فلم ساز کا کوئی سراغ ہاتھ نہیں آیا ہے لیکن امریکی حکام کو شبہ ہے کہ نکولا ہی سیم بیسائل کا نام استعمال کر رہے ہوں گے۔

بہرحال نکولا نے خلاف اسلام ہتک آمیز فلم بنانے سے انکار کیا ہے جس کی وجہ سے اسلامی ممالک میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے تھے۔

جمعے سے لے کر آج تک فلم کے خلاف ان مظاہروں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کے رہنماؤں نے عرب اور مسلمان ممالک سے فوری طور پر ان مظاہروں کو ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔

اس فلم کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں مظاہرین نے امریکی، جرمن اور برطانوی سفارتخانوں پر بھی حملے کیے جبکہ لبنان میں امریکی فاسٹ فوڈ ریستوران ’کے ایف سی‘ اور ’ہارڈیز‘ کو آگ لگا دی تھی۔

جمعرات کو بن غازی، لیبیا میں امریکہ کے سفیر اور دیگر تین امریکی سفارت کاروں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور بظاہر فلم کے خلاف غصہ کو اس کی وجہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔