اسلام مخالف فلم: یورپی یونین کی احتجاج ختم کرنے کی اپیل

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 03:42 GMT 08:42 PST

پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف مسلمان ممالک میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد یورپی یونین نے ان مظاہروں کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے عرب اور مسلمان ممالک سے فوری طور پر ان مظاہروں کو ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔

واضح رہے کہ اس فلم کے خلاف مظاہرین نے امریکی، جرمنی اور برطانیہ کے سفارتخانوں پر بھی حملے کیے جبکہ لبنان میں امریکی فاسٹ فوڈ ریستوران ’کے ایف سی‘ کو آگ لگا دی تھی۔

یورپی کمیشن کے صدر یوزے مینئول بروزُو نے اس حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’ناقابلِ برداشت‘ اور ’مہذب دنیا کے اصولوں کے خلاف‘ قرار دیا۔

یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ کیتھیرین ایشٹن نے متعلقہ ممالک کے حکام سے سفارتی مشنز اور سٹاف کی حفاظت یقینی بنانے کی استدعا کی ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ بات بہت اہم ہے کہ متاثرہ خطوں کے رہنما ان پرتشدد مظاہروں کو ختم کروانے اور وہاں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

دریں اثناء جرمنی کے وزیرِ خارجہ گیڈو ویسٹرویلا نے کہا ہے کہ جمعے کو برلن میں سوڈان کے سیفر کو طلب کر کے انہیں سفارتی مشنز کی حفاظت کے حوالے سے انہیں ان کی ڈیوٹی کے بارے میں یاد دلایا گیا۔

ادھر امریکہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لیے میرین بھیج رہا ہے۔ ان میرینز کو خرطوم میں جمعے کو امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں کے بعد تعینات کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے اپنے ہم منصب علی عثمان سے بات کرتے ہوئے خرطوم میں امریکی اور دیگر سفارت خانوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان کے مطابق امریکی نائب صدر نے سوڈان کی حکومت سے خرطوم میں واقع سفارت خانوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف خرطوم، تیونس، مصر اور لبنان میں جمعے کو ہونے والے مظاہروں میں کم سے کم سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

تیونس میں مظاہرین کی جانب سے امریکی سفارتخانے کی حدود میں داخل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

مصر اور لبنان میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔

ادھر مظاہرین نے جرمنی اور برطانیہ کے سفارتخانوں پر بھی حملے کیے جب کہ لبنان میں امریکی فاسٹ فوڈ ریستوران ’کے ایف سی‘ کو آگ لگا دی گئی۔

جمعے کی نماز کے بعد مزید احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس نے امریکی سفارت خانے کے قریب جمع ہونے والے پانچ سو کے قریب مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔

گزشتہ منگل کو بن غازی میں واقع امریکی قونصل خانے پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں امریکی سفیر کرس سٹیونز اور دو دوسرے سفارت کار ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بتایا کہ ان میں سے ایک امریکی بحریہ کے سابق سیل ٹائرون ووڈز اور دوسرے گلین ڈورتھی تھے جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بچاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ شون سمتھ ہلاک ہونے والے چوتھے فرد تھے جو امریکی محکمۂ خارجہ میں افسر معلومات تھے۔

اس حملے کے بعد سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عمومی بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے یقین دہانی کروائی ہے کہ بیرون ملک موجود امریکی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں کو امریکی شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس فلم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس تشدد اور ان حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ نفرت انگیز فلم جان بوجھ کر تعصب اور خون خرابے کے بیج بونے کے لیے بنائی گئی ہے۔‘

لیبیا کے نو منتخب وزیر اعظم مصطفیٰ ابو شاقور نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ وہ قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں امریکہ اور لیبیا کے تعلقات خراب ہوں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اس معاملے سے امریکی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی نے ایک فلم بنائی اور اسے یو ٹیوب پر ڈال دیا جو کہ یقینی طور پر توہین آمیز تھی لیکن اس کو جواز بنا کر امریکہ یا امریکی سفارت خانوں کے خلاف وحشیانہ اقدامات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لوگ باہر نکل سکتے ہیں اور احتجاج کر سکتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار پرامن طریقے سے کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔