پیغمبر اسلام مخالف فلم پر احتجاج جاری

آخری وقت اشاعت:  پير 17 ستمبر 2012 ,‭ 15:16 GMT 20:16 PST

دنیا کے مختلف ممالک میں امریکہ میں بننے والی ایک اسلام مخالف فلم پر احتجاج میں بعض ملکوں میں شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔

امریکہ میں بننے والی ایک اسلام مخالف فلم پر اسلامی ممالک میں احتجاج میں تازہ اضافہ ہوا ہے۔

جہاں پاکستان میں ہونے والے احتجاج میں ایک شخص ہلاک ہو گیا وہیں فلپائن کے شہر مراوی میں ہزاروں افراد نے ایک مشتعل جلوس میں شرکت کی۔

پیر کے روز افغانستان کے دارالحکومت میں مشتعل مظاہرین نے پولیس کی گاڑیاں نذر آتش کر دیں اور گولیاں بھی چلائیں۔

اسی طرح لبنان میں ایک بہت بڑے جلوس کی تیاریاں ہو رہی ہیں جہاں حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے احتجاج کو جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اب تک ہونے والے احتجاج میں ایک درجن کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

بھارت کے بعد اب پاکستان میں بھی اس فلم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو انٹرنیٹ پر یہ فلم بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

کراچی میں مظاہرین نے احتجاج کے دوران امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی اور اس دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔

لاہور میں وکلاء اور طلباء تنظیموں کی جانب سے مختلف علاقوں میں جلوس نکالے گئے جب کہ پشاور میں بھی اسی طرح کے جلوس نکلے۔

لاہور میں مجلس وحدت المسلمین کے زیر انتظام پریس کلب اور امریکی قونصلیٹ کے قریب ایک مظاہرہ کیا گیا جن پر پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں جلسے اور جلوسوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

اتوار کے روز حیدرآباد میں ایک احتجاجی ریلی نے ایک مشنری ہسپتال پر حملہ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا تھا۔

احتجاجی مظاہروں کے سبب بھارت کے جنوبی شہر چنئی میں امریکی قونصلیٹ کے ویزا سیکشن کو دو روز کے لیے بند کردیا گیا ہے جبکہ بھارتی حکومت نے توہین آمیز فلم کو بھارت میں بلاک کر دیا ہے۔

اسی طرح ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں بھی مظاہرے ہوئے۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں سینکڑوں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر پٹرول بموں سے حملہ کیا اور پتھر بھی برسائے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کئی حملہ آورں کا تعلق اسلامی شدت پسند گروہوں سے تھا۔

یمن میں سینکڑوں افراد نے دارالحکومت صنعاء میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور امریکی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا۔

سینکڑوں مظاہرین نے فلسطین کے شہر رام اللہ میں ایک پر امن احتجاجی دھرنا دیا۔

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا کہ یہ فلم ’نہ صرف غلط اور توہین آمیز ہے بلکہ ایک مضحکہ خیز فلم سازی کی کوشش ہے، مگر جو چیز خطرناک ہے اور غلط ہے وہ اس پر ہونے والا ردِ عمل ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔