’سٹانک ورسس‘ کو آج شائع کرنا ممکن نہیں ہوتا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 17 ستمبر 2012 ,‭ 14:30 GMT 19:30 PST
سلمان رشدی

ایسی کتاب کو چھاپنے کے لیے پبلیشر کو بہت بہادر ہونا پڑے گا۔

سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں 1988 کی ان کی متنازعہ کتاب ’سٹانک ورسس‘ کو آج کے دور میں شائع کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت غیر یقینی اور خوف کا ماحول ہے۔

مصنف سر سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں ان کی کتاب پر پابندی عائد ہونا اور اس کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں کے ان پر گہرے اثرات ہوئے تھے۔

بی بی سی کے ول گومپرٹز کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ایک ایسی کتاب جس میں اسلام کی تنقید کی گئی ہو اسے آج کے دور میں شائع کرنا مشکل ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کتاب کو چھاپنے کے لیے پبلیشر کو بہت بہادر ہونا پڑے گا۔ سر سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ کسی بھی آزاد معاشرے میں رہنے کا طریقہ یہی ہے کہ آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ اپنی بات کہنے اور کرنے کا حق حاصل ہو۔

متعدد مسلمانوں کے خیال میں ’سٹانک ورسس‘ توہینِ اسلام کے مترادف ہے اور اس کتاب پر بھارت میں ابھی تک پابندی ہے۔

پینسٹھ سالہ سلمان رشدی اپنی اس متنازع کتاب کے شائع ہونے کے بعد ایران کے آیت اللہ خمینی کی جانب سے اپنے خلاف موت کا فتوٰی جاری ہونے کے بعد سے ہی چھپ کر زندگی گزار رہے ہیں۔

سر سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ مصنفوں پر آج بھی ترکی، مصر اور ایران جیسے مسلم ممالک میں حملے کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مذہبی انتہا پسندی اظہارِ رائے کی آزادی کو توہینِ مذہب اور بے حرمتی کے الزام میں نشانہ بنا رہی ہے جو قرنِ وسطی کے زمانے کے نظریات ہیں۔

سلمان رشدی نے کہا کہ ’ہم اس وقت ایک بہت مشکل دور میں ہیں جہاں غیر یقینی اور خوف ہے‘۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے چینل فور نے سکیورٹی کے خدشات کے سبب اپنی دستاویزی فلم ’اسلام: دی اٰن ٹولڈ سٹوری‘ کا براڈ کاسٹ روک دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔