مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر کے جواب

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 15:40 GMT 20:40 PST

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ ایڈیٹر جیریمی بوئن نے مشرق وسطیٰ، اسلام مخالف فلم اور بہت سارے اور موضوعات پر سوالات کے جوابات دئے۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ ایڈیٹر جیریمی بوئن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر قارئین کے سوالات کے جوابات دئے جنہیں یہاں تلخیص کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔

اس میں دنیا کے مختلف ممالک سے مختلف نوعیت کے معاملات پر لوگوں نے ان سے سوالات کیے۔ خصوصی طور پر سوالات کا موضوع اسلام مخالف فلم اور عرب ممالک میں جاری احتجاجی تحریک کے حوالے سے شام اور بحرین کا مسئلہ تھا۔

iraqyiaforever@: کا سوال: کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ عراق خطے کے باقی ممالک کے نسبت زیادہ مستحکم ہے؟

جیریمی کا جواب: میں نے ابھی عراق کا دورہ کرنا ہے۔ عراق شام سے زیادہ پر امن ہے لیکن میرا یہ تاثر ہے کہ عراق عدم استحکام کے پریشان کن نشانات ظاہر کر رہا ہے۔

اینڈی کلوک نے ای میل کے زریعے سوال کیا کہ ’آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ اسلام توہین یا تنقید کے معاملے بہت زیادہ حساس ہے؟

جیریمی کا جواب: کیونکہ مسلمان سمجھتے ہیں کہ کہ ان پر بہت زیادہ غیر منصفانہ تنقید کی جاتی ہے اور کسی حد تک وہ مغربی حکومتوں سے خطرہ بھی محسوس کرتے ہیں۔

MJes54 asks@ کا سوال: کیا آپ کو حماس یا حزب اللہ کے اعلیٰ انتظامی اہلکاروں کے تفصیلی انٹرویو کرنے کی اجازت ہے؟

جیریمی کا جواب: ہاں ہم حماس اور حزب اللہ کے اعلیٰ اہلکاروں کا انٹرویو کر سکتے ہیں اگر وہ راضی ہوں۔ حماس اکثر ہاں کہتے ہیں جبکہ حزب اللہ کی طرف سے حسن نصراللہ کے انٹرویو پر انکار ہوتا ہے۔

نِجل ٹیب نے بی بی سی کہ فیس بک صفحے پر سوال پوچھا کہ ’مشرق وسطیٰ کے مسلمان یورپ کے مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ حساس کیوں ہیں؟

جیریمی کا جواب: میرا تاثر ہے کہ آپ شاید فلم کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ یہ حساسیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ معاملہ یہ ہے کہ لوگ کس طرح احتجاج کرتے ہیں۔

گراہم ملر نے گوگل پلس کے زریعے پوچھا ’کیا ایک عام آدمی نے عرب ممالک میں آنے والی بیداری کی لہر سے فائدہ حاصل کیا ہے یا پھر ان کی زندگیاں پہلے سے زیادہ مشکل ہوگئی ہیں؟

"پولیس سٹیٹس کے خاتمے سے خوف کا ایک بہت بڑا عنصر ختم ہو گیا لیکن انقلابی معاشروں نے عدم استحکام اور بے روزگارے جیسے مسائل حل نہیں کیے۔"

جیریمی بوئن

جیریمی کا جواب: پولیس سٹیٹس کے خاتمے سے خوف کا ایک بہت بڑا عنصر ختم ہو گیا لیکن انقلابی معاشروں نے عدم استحکام اور بے روزگارے جیسے مسائل حل نہیں کیے۔

curatingturkey@ کا سوال: ترکی مشرق وسطیٰ کی سیاست میں کیا کردار ادا کرے گا اگر اسے کوئی کردار ملتا ہے تو؟

جیریمی کا جواب: ممکنہ طور پہ ترکی کافی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ لیکن طاقت کے استعمال کے حقائق بہت پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل اور شام کے تناظر میں دیکھیں۔

ائن مک ایون نے ای میل کے زریعے سوال کیا ’اسلامی دنیا کا کتنا ردعمل ایک منظم سیاست تھی نے کہ غصہ؟

جیریمی کا جواب: فلم کی توہین پر غصہ حقیقی ہے۔ بعد کے مظاہرے منظم طور پر کیے گئے جیسا کہ حزب اللہ کی جانب سے بیروت میں ایک بہت ہی منظم مظاہرہ کیا گیا۔

برائن مِک نے بی بی سی نیوز کے فیس بک صفحے پر سوال کیا کہ ’کس حد تک آپ سمجھتے ہیں برطانوی اور امریکی حکام کو پتا تھا کہ عرب ممالک میں ہونے والے احتجاج تحریک کہ پیچھے کون سے گروہ تھے؟

جیریمی کا جواب: امریکہ اور برطانیہ عرب ممالک کی احتجاجی تحریک سے حیران ہو گئے تھے اور انہوں نے دو ہزار گیارہ اپنے آپ کو ان واقعات کو قبول کرنے کے عمل کی کوششوں میں گزارا۔ دو ہزار بارہ میں ہونے والے حالیہ واقعات بھی اسی طرح انہیں حیران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

فِل ہیتھ نے سوال کیا کہ ’بیرونی مداخلت کے بغیر کیا شام کی صورتحال حقیقت میں تبدیل ہو گی؟

جیریمی کا جواب: بیرونی مداخلت پہلے سے ہو رہی ہے۔ مزید براہ راست فوجی مداخلت بشار الاسد کی حکومت گرا سکتی ہے لیکن ایسا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اس سے معاملات مزید نہ بگڑ جائیں۔

JustAct_me@ کا سوال: مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ کون سا گروہ خطے کی زد میں ہے؟

"شام میں بیرونی مداخلت پہلے سے ہو رہی ہے۔ مزید براہ راست فوجی مداخلت بشار الاسد کی حکومت گرا سکتی ہے لیکن ایسا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اس سے معاملات مزید نہ بگڑ جائیں۔"

جیریمی بوئن

جیریمی کا جواب: نوجوان

Fubsy asks@ کا سوال: مشرق وسطیٰ میں ہونے والی بے چینی کے پیچھے کون سے محرکات ہیں؟ سماجی رابطے کا میڈیا؟ کیا یہ غیری ارادی ہے یا منظم؟ اس کا انجام کیا ہو گا؟

جیریمی کا جواب: اس کے پیچھے بنیادی محرک نوجوان نسل ہے جو غیر مطمئن ہیں خاص طور پر سماجی رابطے کے میڈیا پر اور ٹی وی پر دیکھ کر کہ ان کی زندگیاں اس وقت ایسی نہیں ہیں جیسی ہونی چاہیں۔

مائک مینزو نے بی بی سی کے فیس بک صفحے پر پوچھا ’کیا احتجاج فلم کی بنیاد پر کیا گیا یا فلم کو ایک عنصر کے طور پر استعمال کیا گیا لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے؟

جیریمی کا جواب: قاہرہ میں فلم لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی بعد میں پھر دوسری قسم کے احتجاج کے لیے۔

چیس نے ای میل کے زریعے پوچھا کہ ’میں پڑھ رہا ہوں کہ مسلمانوں کی اکثریت اس احتجاج سے متفق نہیں ہے۔ پھر کیوں ہم وہ متوازن آواز نہیں سنتے ہیں؟

جیریمی کا جواب: میں کہوں گا کہ نیک مسلمان اس بات سے متفق ہیں کہ یہ فلم توہین آمیز تھی۔ بہت سے پر تشدد احتجاج سے متفق نہیں ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کے ہماری رپورٹنگ اس بات کو مدنظر رکھے گی۔

AdamJSchwarz@ کا سوال: لیبیا کی حکومت کی خانہ جنگی کے بعد معاشرے سے ہتھیار ختم کرنے کی کوشش کتنی کامیاب ہے؟

لیبیا کی حکومت بہت کمزور ہے اور بہت زیادہ غیر موثر ہے لوگوں کو اس بات پر رضامند کرنے کے لیے کہ وہ ہتھیار حکومت کے حوالے کر دیں۔ مسلح گروہ حکومت تک کے لیے کام کرتے ہیں۔

جون بروکس نے ای میل کے زریعے سوال کیا ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لیبیا میں حالیہ نیٹو مداخلت نے اسلامی انتہا پسندی کے راستے کھولے ہیں؟

جیریمی کا جواب: اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ جہادیوں کو اب مزید آزادی ہے لیبیا میں کارروائیاں کرنے کی قذافی کے دور کی نسبت، لیکن ایسے گروہ بہت کم ہیں۔

Daviddixey asks@ کا سوال: اسرئیل اور ایران میں جنگ ہوگی یا نہیں؟ آپ کی رائے؟

جیریمی کا جواب: ممکن ہے، مگر اگر ایران سے یورینیم کی افزودگی کے بارے میں معاملات طے ہو جائیں۔ اسرائیل امریکہ کے ایران پر حملہ کرنے کو ترجیح دے گا لیکن وہ اپنے آپ کو درپیش خطرات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔

کے کمال نے ای میل کے زریعے پوچھا ’لیبیا میں قذافی کے دور حکومت میں اتنے ہتھیار نہیں تھے۔ یہ سب ہتھیار باغیوں کو کس نے مہیا کئے؟

جیریمی کا جواب: قذافی نے بہت بڑی مقدار میں اسلحہ خریدا تھا جو باغیوں نے اپنے قبضے میں لیا۔ انہیں بیرونی ممالک سے بھی ہتھیار ملے جیسا کہ قطر سے۔

ایک قاری نے فیس بک کے صفحے پر پوچھا ’ شام میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کا لبنان پر کیا اثر ہو گا؟

جیریمی کا جواب: شاید تباہ کن اثر ہو گا۔ لبنان اس تشدد کی لہر کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے بہت سارے روابط ہیں شام کے ساتھ اور بعض فرقہ وارانہ اختلافات بھی ہیں جن کی بنیاد پر یہ بہت مشکل کام ہو گا۔

drjameschums@ کا سوال: کیا بے روزگاری اور برے معیار تعلیم نے عرب نوجوانوں کو احتجاجی تحریکوں میں شامل ہونے پر آمادہ کیا؟

" بحرین ایک اہم کہانی ہے اور ہم نے اس کو اچھے طریقے سے رپورٹ کیا ہے۔ اسے اور زیادہ کرنا چاہیے تھا لیکن بڑی خبریں ائر ٹائم کھا جاتی ہیں اور اس میں کوئی سازش نہیں ہے۔"

جیریمی بوئن

جیریمی کا جواب: بے روزگاری اور برے معیار تعلیم نے عرب نوجوانوں ایک پوری نسل پیدا کی ہے جو غصے سے بھر پور ہیں اور احتجاج کے لیے تیار ہیں۔

TimMurray16@ کا سوال: بی بی سی نیوز بحرین میں احتجاج اور عدالتی مقدمات کی کارروائیوں پر اتنی خاموش کیوں ہے؟

جیریمی کا جواب: بحرین ایک اہم کہانی ہے اور ہم نے اس کو اچھے طریقے سے رپورٹ کیا ہے اسے اور زیادہ کرنا چاہیے تھا لیکن بڑی خبریں ائر ٹائم کھا جاتی ہیں اور اس میں کوئی سازش نہیں ہے۔

kodzos@ کا سوال: اس بارے میں کیا خیال ہے کہ عرب ممالک میں اٹھنے والی تحریک کی نتیجے میں لیبیا، تیونس اور مصر میں تو حکومتیں گریں مگر مراکش اور اردن میں نہیں؟

جیریمی کا جواب: جمہوریا ریاستیں بادشاہتوں کی نسبت زیادہ خطرے میں تھیں۔ ایسے حکمران جنہوں نے طاقت پر قبضہ کیا تھا کے پاس حکومت کا کم استحقاق تھا۔ بادشاہ حکومتیں بر طرف کر سکتےتھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بادشاہتیں خطرے میں نہیں ہیں۔ مراکش میں کچھ سمجھدارانہ اصلاحات کی گئیں شاید اردن میں اتنی نہیں۔ کوئی بھی عرب ریاست تبدیلی سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ بشار الا سد نے سوچا کہ وہ مستثنیٰ ہیں اور کہا بھی۔ فرق یہ ہے کہ وہ اس سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

CathalPMc@ کا سوال: کیا آپ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی دیکھتے ہیں؟

جیریمی کا جواب: امریکہ اور برطانیہ کو مشرق وسطیٰ میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اثر کتنا کم ہوا ہے۔ برطانیہ کو اس کی عادت ہے امریکہ کو نہیں۔ مغرب نے مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسی کو بہت عرصہ تک مبارک جیسی سخت گیر حکومتوں پر منحصر رکھا تھا۔ اب مشکل ہے کس طرح نئے آنے والوں سے بات کی جائے۔

Chris1966@ کا سوال: کیا مغرب ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کے ساتھ گزارا کر سکے گا؟

جیریمی کا جواب: مغرب نے ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس سوویت یونین کے ساتھ گزارا کیا۔ کیا یہ مزاحمت یعنی ڈیٹرنس ایران کے لیے کام کرے گی؟ بہت حد تک ممکن ہے کرے۔ ایرانی بہت منطقی لوگ ہیں۔ لیکن مزاحمت دونوں جانب کام کرتی ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران مظبوط ہو گا اور اسی طرح سے اس کے حامی بھی جو کہ ایک وجہ ہے اسرائیل کے پریشان ہونے کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔