خاتون حملہ آور کا بس پر خودکش حملہ، بارہ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 04:52 GMT 09:52 PST
فائل فوٹو

کابل میں اس سے پہلے بھی غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے نزدیک ایک خاتون خودکش حملہ آور نے غیر ملکی شہریوں کو لے جانے والی ایک منی بس کو نشانہ بنایا ہے۔

پولیس کے مطابق اس خودکش حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر نیٹو کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں پر مقامی فوجیوں کے حملوں کے بعد افغان اور اتحادی افواج کے مشترکہ گشت کا سلسلہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منی بس میں سوار غیرملکی ایئرپورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ ان کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق منی بس کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والے غیر ملکی سٹاف کو لے کر جا رہی تھی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور مقامی میڈیا کے مطابق افغان عسکریت پسند گروپ حزبِ اسلامی نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

رائٹرز نے حزبِ اسلامی کے ایک ترجمان زبیر صدیقی کے حوالے سے بتایا ہے کہ’اسلام مخالف فلم کے ردعمل میں ایک خودکش حملہ آور خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور ایک اورگاڑی میں سوار تھی اور بظاہر اس نے منی بس کو ہدف بنایا۔

کابل پولیس کے سربراہ محمد ایوب سولنگی کا کہنا ہے کہ لازمی طور پر خودکش حملہ آور منی بس کا تعاقب کر رہی تھی۔ انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہلاکتیں زیادہ ہوئیں ہیں‘۔ پولیس سربراہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔

خودکش حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔