امریکی سیاست میں یہودی لابی کا اثر

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 16:16 GMT 21:16 PST

ریپبلیکن امیدوار مٹ رومنی صدر براک اوبامہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں

امریکی صدارت کے لیے ریپبلیکن امیدوار مٹ رومنی کے خیال میں فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن نہیں چاہتے اور اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ مسئلہ فلسطین پر زیادہ توجہ نہیں دیں گے۔

ریپبلیکن امیدوار کی ایک خفیہ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سناگیا ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن نہیں چاہتے۔ اسی ویڈیو میں ریپبلیکن امیدورا نے ڈیموکریٹ پارٹی کے ووٹروں کو ’مظلوم‘ قرار دیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے ووٹروں کو مظلوم کہنے پر مٹ رومنی کو تنقید کا سامنا ہے۔

امریکہ کے لبرل میگزین ’مدر جونز‘ نے فلسطین کے حوالے سے ان کی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ کی تفصیل چھاپی ہے۔

الیکشن مہم کے دوران فنڈ اکھٹے کرنے کے لیے ایک تقریب میں مٹ رومنی سے جب سوال پوچھا گیا کہ کیا فلسطین کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو انہوں نے جواباً کہا :’فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

ریپبلیکن امیدوار مٹ رومنی ہمیشہ صدر براک اوباما کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مٹ رومنی کا کہنا ہے کہ فلسطین کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی امریکی صدر کی سوچ دنیا کی بدترین سوچ ہے۔

مٹ رومنی صدر اوباما کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو’ کمزور‘ اور غلط گرادنتے ہیں۔ مٹ رومنی کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین مذاکرات کے آغاز انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کو بنیاد بنانا اسرائیل کو بس کے نیچے دھکیل دینے کے مترادف ہے۔

مٹ رومنی نے جولائی میں جب اسرائیل کا دورہ کیا تو انہوں نے یورشلم کو یہودی ریاست کا دارالخلافہ قرار دے کر فلسطینیوں کو انتہائی ناراض کیا تھا۔

صدر براک اوباما نے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اقدامات کیے اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں ایلچی مقرر کیا لیکن اسرائیل کی مخالفت کی وجہ سے اس پالیسی کو سرد خانہ میں ڈال دیا گیا۔

صدر اوباما نے اسلامی دنیا میں امریکہ کے تشخص کو بہتر کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اقدامات کا آغاز قاہرہ میں اپنی تقریر سے کیا لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔

اسرائیلی وزیر نیتن یاہو نےامریکہ میں یہودی لابی کے زور پر امریکی صدر کی مشرق وسطیٰ کے بارے میں منصوبوں کی اتنی مخالفت کی اور عملاً پوری امریکی کانگریس صدر اوباما کے راستے میں کھڑی ہوگئی۔

صدر براک اوباما مشرق وسطیٰ میں تو کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے لیکن انتخاب میں کامیابی کے لیے وہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت، عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان، کو اپنی کامیابیوں میں گنوا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔