دمشق اور شام کے دیگرشہروں میں لڑائی جاری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 11:29 GMT 16:29 PST

شام کے دارالحکومت دمشق اور شمالی شہر حلب میں ایک مرتبہ پھر شدید لڑائی ہوئی ہے۔

حکموت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجیں دمشق کے جنوبی مضافاتی علاقے حجرالاسود کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں اور اس علاقوں کے رہائشیوں کے لیے صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

سرکاری ذارئع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج نے بہت سے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

قبل ازیں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا تھا کہ بے دریغ فضائی اور زمینی گولہ باری کی وجہ سے ادلیب اور حمہ میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ان دو صوبوں کی صحیح صورتحال سامنے نہیں آ رہی کیونکہ دنیا کی توجہ دمشق اور حلب پر مرکوز ہے۔

دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صلاحی دمشق پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے صدر بشارالاسد اور شام کے اعلی حکام سے ملاقات کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے شام کے دورے سے قبل فریقین کو تشدد بند کرنے اور بیرونی مداخلت کے بغیر شام میں پرامن حل پر زور دیا تھا۔

دمشق کی صورتحال

دمشق شہر کے مختلف علاقوں سے تمام دن دھویں کے سفید اور سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ شہر سے مسلسل ایمبولینس کے سائرنوں کی آوزیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔ حکومتی فوجوں کی طرف سے وقفے وقفے سے شہر کے مضافاتی علاقوں میں جہاں مخالفین کی اکثریت ہے بمباری جاری رہتی ہے۔

زیادہ تر بھاری ہتھیاروں سے بمباری قسیوں کی پہاڑیوں سے کی جاتی ہیں جہاں سے پورے شہر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل بمباری کی وجہ سے زیر زمین تہ خانوں میں اپنے اجلاس کرنے پر مجبور ہیں۔

تمام شہر میں جگہ جگہ ناکے لگے ہیں کہیں ریت کی بوریاں لگا کر ناکے بنائے گئے ہیں۔ ان ناکوں پر شامی پرچم اور صدر اسد کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ بڑی شاہراوں پر کسی بھی جگہ کسی بھی وقت عارضی ناکے بھی لگا دیئے جاتے ہیں۔

حکومت نے اس سال جولائی میں دمشق شہر میں شدید جھڑپوں کے بعد اپنا قبضہ مضبوط کر لیا ہے۔

لیکن لڑائی واضح طور پر ختم نہیں ہوئی ہے اور بڑھتی ہوئے جانی نقصان اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں اور بہت سے علاقے ویران پڑے ہیں۔

ایک شامی جنرل نے جو اس سال حکومت سے منحرف ہوگئے تھے۔ ٹائمز اخبار کو بتایا ہے کہ صدر نے کیمائی ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر بات کی تھی اور اس تجویز پر بھی غور کیا تھا کہ کیمائی ہتھیار لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دے دیئے جائیں۔

جنرل عدنان صلو نے کہا کہ اس تجویز پر آخری حربے کے طور پر بات کی گئی تھی کہ اور اس صورت میں کہ اگر حلب سرکاری فوج کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

حکومت کے مخالفین کا کہنا تھا کہ بدھ کو سرکاری فوج نے دمشق کے جنوب مغربی مضافاتی علاقے محمدیہ، جادیدات، ارطوز، کناکر اور شمالی مغربی ضلع قدم اور اصالی اور جنوبی ضلع حجرہ الاسود کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع حجرہ الاسود میں حالات انتہائی سنگین ہیں جہاں پر مسلسل فضا اور زمین سے بمباری کی جا رہی ہے۔

حکومت مخالف کارکنوں نے انٹر نیٹ پر ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کو بمباری کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اس کے علاوہ اس ویڈیو میں بیس افراد کی لاشیں بھی دکھائی گئی ہیں جو مبینہ طور پر سرکاری فوجوں کی بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری فوج حجرہ الاسود میں داخل ہو گئی ہے جہاں ان کے بقول ایک قبرستان کے قریب ’دہشت گردوں‘ کے ایک گروپ سے شدید لڑائی کے بعد بہت سے ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

حلب میں حکومت مخالف اور سرکاری فوجوں نے شہر کے قدیم علاقے کو نشانہ بنایا ہے جس میں باب الحدیداور باب الانصر کے علاقے شامل ہیں۔

مقامی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ منگل کو ملک بھر میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہوئے جس میں سڑسٹھ ہلاکتیں صرف دمشق شہر میں ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت ان کی تھی جو بمباری کا نشانہ بنے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں پر اندھا دھند بمباری جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔