صومالیہ: خود کش حملوں میں چودہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 22:27 GMT 03:27 PST

صومالیہ میں حکام کے مطابق دارالحکومت موغادیشو کے ایک ریستوران میں ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں کم سے کم چودہ افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام کے مطابق اس حملے میں دو خود کش حملہ آوروں نے خود کو اڑا لیا۔

صدارتی محل کے قریب ہونے والے اس خود کش حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔

خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں صومالیہ ٹی وی کے سابق ایڈیٹر، دو صحافی اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو ریستوران میں ہونے والا خود کش دھماکہ صومالیہ کے نئے صدر کے حلف اٹھانے کے بعد دوسرا حملہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے ریستوران کے اندر جبکہ دوسرے نے ریستوارن سے باہر خود کو اڑا لیا۔

ریستوران کے مالک احمد جاما نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد بے گناہ تھے، ان کی لاشیں میرے سامنے پڑی ہیں۔

موغا دیشو میں بی بی سی کے نامہ نگار ایدن کا کہنا ہے کہ انہوں نے چھ لاشوں کو دیکھا ہے۔

صومالیہ میں حکومتی افواج کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی شدت پسند گروپ الشباب کی جانب سے ’کسمیو‘ بندر گاہ کا قبضہ واپس لینے کے لیے بندر گاہ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ اسلامی شدت پسندوں کو صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے نکال دیا گیا تھا تاہم وہ شہر میں اس طرح کے حملے کرتے رہتے ہیں۔

اسلامی شدت پسند تنظیم الشباب صومالیہ کا جنوب اور مرکزی علاقوں میں کنٹرول ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔