’عرب ممالک میں تحریکوں سے انتشار پھیلا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 11:59 GMT 16:59 PST

شام کے صدر نے کافی عرصے کے بعد اس انٹرویو کے ذریعے کوئی بیان دیا ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے ایک مصری جریدے الاحرام العربی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ عرب ممالک میں جاری احتجاجی تحریکوں، عرب سپرنگ، کی وجہ سے انتشار پھیلا ہے۔

صدر بشار الاسد نے دعویٰ کیا کہ شامی باغی جیت نہیں سکتے۔

انہوں نے مزید کہا ’اس مسئلے میں برسرپیکار فریقین برابر ہیں، اس مسئلے کا واحد حل سیاسی سطح پر بات چیت ہے‘۔

بشار الاسد نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی طرح نہیں گرے گی۔

ان کا یہ انٹرویو اس وقت سامنے آیا ہے جب شام کے سب سے بڑے شہر حلب میں لڑائی دوبارہ شروع ہوئی ہے۔

شام کے انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج باغیوں کے ساتھ لڑائی میں گن شپ ہیلی کاپٹرز استعمال کر رہی ہیں۔

صدر بشار الاسد نے کہا ’تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست ان لوگوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر نہیں بیٹھے گی جو ہتھیار اٹھا کر لڑ رہے ہیں۔

جمعرات کو کم از کم دو سو پچیس افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک سو چالیس سویلینز، انتالیس باغی، اور چھیالیس فوجی شامل ہیں۔

تیس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب حکومتی لڑاکا طیاروں نے ایک پٹرول پمپ پر حملہ کیا۔

شامی صدر نے کہا کہ ’یہ مسلح گروہ ریاست کے خلاف دہشت گردی کر رہے ہیں۔ یہ معاشرے میں مقبول نہیں ہیں اور بلاخر فاتح نہیں ہوں گے‘۔

بی بی سی کے جم موئیر نے بیروت سے بتایا کہ بشار الاسد نے بہت عرصے سے کوئی بیان نہیں دیا تھا لیکن اس انٹرویو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے بیرونی مداخلت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی بیرونی مداخلت اور سربراہ کے ہٹانے سے نہیں آئے گی۔

لیبیا کے تجربات شام میں نہیں دہرائے جائیں گے۔

عرب ممالک کی حکومتوں کے گرنے نے ’آزادی، جمہوریت اور سماجی ناانصافی کے خاتمے میں کوئی کردار نہیں ادا کیا جتنا انتشار پھیلانے میں کیا ہے‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ بشار الاسد نے سعودی عرب اور قطر کی جانب سے باغیوں کی حمایت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

بشار الاسد نے ان حکومتوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ریاستیں جو بہت مختصر عرصے میں غربت کے بعد امیر ہوئی ہیں وہ تصور کرتی ہیں کہ وہ اپنی دولت استعمال کر کے جغرافیہ، تاریخ اور علاقائی اثرو رسوخ خرید سکتی ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔