اظہار رائے کی آزادی یا کچھ اور ؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 15:59 GMT 20:59 PST

آزادی اظہارِ رائے پر صدیوں سے مختلف حیلوں بہانوں سے حملے ہوتے رہے ہیں

پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے حکومت کی کال پر منائےگئے یومِ عشق رسول کے موقع پر اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ توہین مذہب کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے۔

ایسی اپیل پہلی مرتبہ نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ میں مذہبی عقائد اور شخصیات کی توہین کے خلاف قرار دادیں منظور کی جاتی رہی ہیں۔

مغربی ممالک کی شہری آزادیوں کی تنظیمیں ان الفاظ کی مخالفت کرتی رہیں۔ لہٰذا انیس سو ننانوے کے بعد پہلی بار رواں برس اقوام متحدہ کی ایسی قراردادوں میں توہین مذہب یا مذہبی شخصیات کی تذلیل جیسے الفاظ شامل نہیں کیےگئے بلکہ اس کی جگہ مذہبی عدم برداشت کی مذمت کی گئی۔

سن دو ہزار چھ میں جب ڈنمارک کے ایک اخبار نے پیغمبرِ اسلام کے تمسخر آمیز خاکے شائع کیے اور خاکوں کی اشاعت کا دفاع آزادی اظہار کے حق کے تحت کیا تھا۔ اس وقت پاکستان کے نامور سفارت کار مرحوم آغا شاہی نے بین الااقومی قراردادوں اور قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آزادی اظہار رائے ایک مطلق حق نہیں ہے اس پر بھی امن عامہ اور عمومی اخلاقیات کی حدوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

امریکہ میں ’مسلمانوں کی معصومیت‘ کے نام سے بننے والی حالیہ فلم نے اب اس بحث کو دوبارہ سے چھیڑ دیا ہے۔ اپنے تئیں مسلمان ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اس آزادای پر پابندی کا مطالبہ یہ کہہ کر کیا ہے کہ امریکی فلم یا اس جیسے مواد ’نفرت‘ پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔

مغربی ثقافت میں اس وقت اگر آزادی اظہار رائے پر کسی طریقے کی پابندی یا کسی لحاظ سے اس پر حد قائم کرنے کی بات ہو سکتی ہے تو وہ نفرت پھیلانے والے مواد کو روکنے کے نام پر ہی ممکن ہے۔ بین الاقوامی کنونشن کسی ایک نسل کو دوسروں سے افضل کہنے، نفرت پھیلانے والے مواد یا نسل پرستی کو فروغ دینے والی ہر قسم کی تقریر اور مواد کو جرم قرار دیتی ہیں۔

مگر اس ضمن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’نفرت‘ پھیلانے والا مواد کیا ہو سکتا اور’اشتعال انگیز‘ اور ’بھڑکانے‘ والے ’غیر روایتی‘ مواد کیا ہیں۔

اگر ان نازک موضوعات پراختلاف رائے کا حل پابندیاں ڈھونڈا گیا تو انسانی معاشرے نے جو اب تک آزادی حاصل کی ہے اور آزادیوں کی وجہ سے جو ترقی کی ہے وہ سب کی سب خطرے میں پڑ جائیں گی۔ آزادی اظہار رائے پر صدیوں سے مختلف حیلوں بہانوں سے حملے ہوتے رہے ہیں اور کئی مرتبہ اس حق کے غلط استعمال کا بہانہ بنا کر آمروں نے عوام پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ’مسلمانوں کی معصومیت‘ نامی فلم یو ٹیوب پر تو گزشتہ کئی ماہ سے موجود تھی مگر اس وقت مختلف مسلمان ملکوں میں ہنگامے دیکھنے میں نہیں آئے۔

اب جب کہ یہ فلم اتنے زیادہ ہنگاموں کا سبب بن گئے ہیں تو خود یوٹیوب یا امریکی حکومت کو مناسب کارروائی کرنا چاہیے تھی۔ مگر ان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے آزادی اظہار کے حق کو کیوں چھینا جائے۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا اشتعال انگیزی اور نفرت آزادی اظہار کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے یا اس کے کچھ اور اسباب ہیں۔

آخر مسلمان ممالک میں بھی تو عیسائیوں یا دوسرے مذاہب کے خلاف شدت پسند عناصر نفرت انگیز مواد انٹرنیٹ پر شائع کرتے رہتے ہیں۔ مگر کیا اس کے جواب میں مغربی ممالک میں ہنگامے شروع ہوجاتے ہیں؟

ہمارے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف بھی شاید آزادی اظہار رائے کے حق کو فساد کا سبب سمجھ رہے ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ فساد کا اصل اسباب موجودہ عالمی سیاست میں ’عالمی طاقت‘ کی خود پسندی ہو۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔