افغانستان سے اضافی امریکی فوج کی واپسی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 11:39 GMT 16:39 PST

امریکی وزیر دفاع کے مطابق اضافی امریکی فوج اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی

امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ تقریباً تین سال پہلے صدر اوباما کی جانب سے افعانستان میں بھیجے جانے والے اضافی تینیس ہزار فوجیوں کی واپسی مکمل ہو گئی ہے۔

صدر اوباما نے اضافی فوجیوں کو افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائیوں اور ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے بھیجا تھا تاکہ افغان سکیورٹی فورسز کو ملک میں سکیورٹی انتظامات سنبھالنے کے لیے وقت دستیاب ہو سکے۔

اس وقت افغانستان میں اڑسٹھ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں اور یہاں افغان سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اتحادی افواج پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثناء افغان حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ارزگان میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دو خواتین، دو کمسن لڑکیاں اور ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک بیان میں اضافی امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپسی کے ساتھ ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ان کی آمد سے دو طرح سے فائدہ ہوا، ایک تو طالبان کو پیچھے دھکیلنے اور دوسرا القاعدہ کو نقصان پہنچانے میں مدد ملی۔

بیان کے متن کے مطابق ’فوج کی تعداد میں اضافے نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے، میدان جنگ میں طالبان کی طاقت کو کم کرنے میں مدد ملی اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی تعداد میں حیران کن تعداد میں اضافہ ہوا‘۔

سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافے سے ہمیں اور بین الاقوامی اتحادی افواج ایساف کو قیادت افغان سکیورٹی فورسز کو منتقل کرنے میں مدد ملی اور یہ ذمہ داریاں جلد ہر صوبے تک منتقل ہو جائیں گی جو افغان آبادی کے پچھہتر فیصد حصے پر مشتمل ہیں۔

"فوج کی تعداد میں اضافے نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے، میدان جنگ میں طالبان کی طاقت کو کم کرنے میں مدد ملی اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی تعداد میں حیران کن تعداد میں اضافہ ہوا۔"

لیون پنیٹا

امریکی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’اس دوران ہم القاعدہ کی قیادت کو اچھا خاصا نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے، اور ہمارے بنیادی مقاصد کے تحت اس کو پریشان کیے رکھا، القاعدہ کو حصوں میں تقسیم کیا اور شکست دی۔‘

امریکی وزیر دفاع نے ایک بار پھر اس عزم کو دوہرایا کہ سال دو ہزار چودہ کے اختتام تک افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے منصوبے پر قائم ہیں۔

افغانستان میں رواں سال افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں یا سکیورٹی فورسز کے ودری میں ملبوس مسلح افراد کے حملے ’گرین آن بلیو‘ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب تک بین الاقوامی اتحادی افواج کے اکیاون اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثناء افغان حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ارذگان میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دو خواتین، دو کمسن لڑکیاں اور ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ گورنر صوبہ ارذگان کے ترجمان عبداللہ ہمت نے افغان اسلامک پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد عام شہری تھے اور ایک کار میں سوار تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔