بغاوت کی منصوبہ بندی، 330 فوجیوں کو سزا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 02:20 GMT 07:20 PST

ترکی کی ایک عدالت نے تین سابق جرنیلوں سمیت تین سو سے زائد فوجی اہلکاروں کو وزیراعظم رجب طیب اردوگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

تینوں جرنیلوں کو فوجی بغاوت کے جرم میں بیس بیس برس قید کی سزا دی گئی ہے۔

جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے اس مقدمے میں شریک چند سینیئر افسران سمیت دیگر تین سو تیس اہلکاروں کو بھی مجرم ٹھہرایا۔

عدالت نے اس مقدمے میں چونتیس افراد کو بری کر دیا۔ مقدمے کے تمام ملزمان نے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

سزا پانے والے افسران پر مساجد میں بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی اور یونان کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تاکہ وہ بغاوت کو جائز ثابت کر سکیں۔

ترکی کی عدالت نے فوج کے تین سابق جرنیلوں کو ابتدائی طور پر عمر قید کی سزائی سنائی تھی تاہم بعد میں ان کی سزا کو بیس برس تک محدود کر دیا گیا۔

دوسری جانب ملزمان نے اپنے خلاف پیش کیے جانے والے ثبوتوں کو بناوٹی قرار دیا ہے اور وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ یہ افسران ایک فوجی مشق میں شریک تھے نہ کہ فوجی بغاوت کی کسی کوشش میں۔

ترکی کی فوج کے سابق کمانڈر جنرل دوگان نے دو سال تک چلنے والے اس مقدمے کو غیر منصفانہ اورغیر قانونی قرار دیا۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ میں سینکڑوں افسروں کو اسلامی رجحانات رکھنے والے وزیراعظم طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ترکی کی فوج کو ملک کے سیکولر آئین کے ضامن کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس نے انیس سو ساٹھ سے انیس سو اسّی کے دوران تین بار حکومتوں کا تختہ الٹا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔