چرچ نے جنسی استحصال کی بات تسلیم کی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 15:12 GMT 20:12 PST
چرچ

حالیہ برسوں میں چرچوں میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ اہم مسئلہ رہا ہے

آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے رومن کیتھولک چرچ نے انیس سو تیس کی دہائی سے لے کر اب تک چھ سو سے زیادہ بچوں کے جنسی استحصال کو تسلیم کر لیا ہے۔

ملبورن کے آرچ بشپ ڈینس ہارٹ نے ان اعداد کو ’خوفناک اور شرمناک‘ قراد دیا ہے۔

یہ اعداد وشمار جنسی استحصال کے معاملے میں ریاست کی پارلیمانی تحقیق کے نتیجے میں داخل کیےگئے ہیں۔

جنسی استحصال کے خلاف مہم میں شامل کارکنوں کا خیال ہے کہ جنسی استحصال کے متاثرین کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

ان اعداد کو داخل کرتے ہوئے چرچ نے کہا کہ چھ سو بیس معاملے اسی سال پرانے ہیں جن میں سے زیادہ تر معاملے انیس سو ساٹھ اور اسّی کی دہائیوں میں رونما ہوئے ہیں۔

چرچ کا کہنا ہے کہ ابھی بھی پنتالیس کیسوں کی تحقیق کی جا رہی ہے۔

عام معافی

"جولائی دو ہزار آٹھ میں جب پوپ بینڈکٹ سولہ نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے چند متاثرین سے ملاقات کی تھی اور جنسی استحصال کے لیے چرچ کی جانب سے عام معافی مانگی تھی"

آرچ بشپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ دردناک استحصال جو وکٹوریہ یا دوسری جگہوں میں ہوا ان کا سامنے آنا اہم بات ہے۔

انھوں نے کہا:’'ہم نے اس تفتیس میں اس لیے حصہ لیا کہ تاکہ جو بچےجنسی استحصال کا شکار ہوئے ہیں ان کے دکھوں کا مداوا ہو۔‘

جنسی استحصال کے خلاف مہم میں شامل کارکنوں کا خیال ہے کہ بہت سے واقعات کی شکایت نہیں کی جاتی اور وہ منظر عام پر نہیں آتے ان کے مدنظر صرف وکٹوریہ میں متاثرین کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

جولائی دو ہزار آٹھ میں جب پوپ بینڈکٹ سولہ نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے چند متاثرین سے ملاقات کی تھی اور جنسی استحصال کے لیے چرچ کی جانب سے عام معافی مانگی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔