شام میں مخالفین اور حکومتی مشیران کی کانفرنس

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 13:33 GMT 18:33 PST

صدر الاسد کا کہنا ہے کہ وہ چند حزبِ مخالف کی تنظیموں کو تسلیم کرتے ہیں

شام میں موجود حزبِ مخالف کی ایک تنظیم ’نیشنل کورڈینیشن باڈی‘ نے اتوار کو دمشق میں ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لائحہِ عمل پر غور کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

اس کانفرنس میں حکومت مخالف انتیس جماعتیں شرکت کر رہی ہیں۔ ان کے علاوہ اس کانفرنس میں ایران، چین اور روس کے نمائندے بھی شامل ہیں جبکہ صدر بشار الاسد کی جانب سے بھی دو مشیروں کو بھیجا گیا ہے۔

ماضی میں روس اور چین نے مغربی ممالک کی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں شام کے خلاف قراردادوں کو روکا ہے۔

اس کانفرنس کے انعقاد کے بارے میں اس وقت ابہام پیدا ہو گیا تھا جب حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ حزبِ مخالف تنظیم نیشنل کورڈینیشن باڈی نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

گذشتہ جولائی ایسی ہی ایک کانفرنس کو اس وقت منسوخ کر دیا گیا تھا جب صدر الاسد کی فوج نے اس تقریب کے مقام کے مالک کو دھمکایا۔ حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ اس بار روس اور چین نے الاسد حکومت پر اتوار کی تقریب کے تحفظ کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

صدر الاسد کا کہنا ہے کہ وہ چند حزبِ مخالف کی تنظیموں کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ ایک ریاستی جماعت کی حکومت سے ملک میں جمہوریت کا سفر ایک پر امن انداز میں طے کرنے چاہتے ہیں۔

ادھر فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) کا نیشنل کورڈینیشن باڈی پر بے اثر ہونے کا الزام ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو ہی شام میں باغیوں کی نمائندہ تنظیم فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنا مرکزی دفتر ترکی سے شام منتقل کر دیا ہے۔

"یہ قدم باغیوں کے تمام گروپوں کو متحد کرنے، صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے اور دارالحکومت دمشق پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔"

ایف ایس اے کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل مصطفیٰ الشیخ

’یو ٹیوب‘ پر موجود ایک ویڈیو میں ایف ایس اے کے جنرل ریاض الاسد نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

یو ٹیوب پر موجود ویڈیو میں جنرل ریاض الاسد نے مرکزی کمانڈ کی ترکی سے شام میں منتقلی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا اور نہ ہی انہوں نے ایف ایس اے کے نئے ہیڈ کوارٹر کے بارے میں کوئی بات کی۔

ایف ایس اے کی فوجی کونسل کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل مصطفیٰ الشیخ نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا یہ قدم باغیوں کے تمام گروپوں کو متحد کرنے، صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے اور دارالحکومت دمشق پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

جنرل ریاض الاسد کا کہنا تھا کہ شام کے دارالحکومت دمشق کو بہت جلد آزاد کروا لیا جائے گا تاہم انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ ایف ایس اے موجودہ حکومت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام کے شہریوں کا نئی حکومت کے حوالے سے متفق ہونا بہت ضروری ہے۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ جم میور کا کہنا ہے کہ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ کیونکہ اس سے پہلے ایف ایس اے پر ترکی سے کام کرنے کی وجہ سے تنقید ہوتی تھی۔

نامہ نگار کے مطابق ایف ایس اے کا تازہ بیان اس اعتماد کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے زیر اثر علاقوں پر اپنا کنٹرول آئندہ بھی قائم رکھ سکیں گے۔

ایف ایس اے ان فوجیوں کا گروپ ہے جو کبھی شام کی فوج کا حصہ تھا

واضح رہے کہ ایف ایس اے ان فوجیوں کا گروپ ہے جو کبھی شام کی فوج کا حصہ تھا لیکن انہوں نے فوج چھوڑ کر حکومت مخالف محاذ بنایا اور اس برس مارچ میں شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج میں حصہ لیا۔

یہ گروپ شام میں سب سے نمایاں مسلح گروپ ہے اور یہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا خواہاں ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ سنہ دو ہزار گیارہ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق شام کے شمالی شہر حلب میں حکومتی فوج نے باغیوں کے خلاف فضائی بمباری کی۔

سنیچر کو آن لائن پر پوسٹ کی جانے والی گرافک فوٹیج میں شام کے شمالی شہر حلب میں تباہ ہونے والی عمارات کو دکھایا گیا۔

ان فوٹیج میں شہریوں کو عمارات کے ملبے کے نیچے سے لاشیں نکالتے ہوئے دکھایا گیا۔

برطانیہ میں شام سے متعلق انسانی حقوق کے گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے سنیچر کو ہونے والی فضائی کارروائی میں نو افراد ہلاک ہوئے تاہم مقامی کوآرڈینیشن کمیٹی کے مطابق دارالحکومت دمشق کے ارد گرد ہونے والی لڑائی میں چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔