ایرانی خواتین کی تعلیم تک رسائی محدود

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 04:28 GMT 09:28 PST

انیس سو اناسی کے انقلابِ ایران کے بعد سے ایران نے لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلے کے سلسلے میں بہت کوششیں کیں ہیں اور مرد اور خواتین طلبا کے درمیان فرق بھی بتدریج کم ہوا ہے۔

ایران میں تعلیمی سال کے آغاز میں خواتین طالب علموں کو نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ملک کی تین درجن سے زائد جامعات نے اسّی شعبوں میں خواتین کے داخلے کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔

ان شعبوں میں نیوکلیائی طبیعات، کمپیوٹر سائنس، بزنس، علم آثار قدیمہ اور انگریزی ادب کے شعبے شامل ہیں۔

اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

ایران سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی وکیل شیرین عبادی کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا ’ایرانی حکومت مختلف طریقوں کے استعمال سے خواتین کی تعلیم تک رسائی کو محدود کر رہی ہے تاکہ انہیں معاشرے کا ایک فعال حصہ بننے سے روکا جا سکے اور انہیں گھر میں واپس بھجوا دیا جائے‘۔

ایران خواتین کو یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم کی اجازت دینے والا مشرقِ وسطیٰ کا پہلا ملک تھا۔

انیس سو اناسی کے انقلابِ ایران کے بعد سے ایران نے لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلے کے سلسلے میں بہت کوششیں کیں۔

مرد اور خواتین طلبا کے درمیان فرق بھی بتدریج کم ہوا ہے۔ ایران میں بہت سے لوگ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ان اقدامات سے ان کامیابیوں پر برا اثر پڑے گا۔

یاد رہے کہ خواتین نے تین سال قبل ایران کے صدارتی انتخابات کے بعد جاری رہنے والی تحریک میں نمایاں حصہ لیا تھا۔

بہت سے ایرانی یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کو ان مظاہروں کے ہراول دستے میں دیکھ کر ایران کے قدامت پسند رہنماؤں کو یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔