لیبیا: عوام کا اسلامی ملیشیا کے اڈوں پر حملہ، چار افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 04:21 GMT 09:21 PST

بن غازی شہر میں تیس ہزار سے زائد افراد نے قانون کی حکمرانی اور مسلح گروہوں کے خاتمے کے لیے مظاہر کیا۔

لیبیا کے شہر بن غازی میں کم از کم تیس ہزار افراد نے مسلح گروہ انصار الشریعہ کے مرکز پر دھاوا بول دیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مسلح گروہوں کا خاتمہ کیا جائے اور قانون کی حکمران کو بحال کیا جائے۔

مسلح گروہوں کے خلاف جارحیت میں گیارہ ستمبر کو بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے بعد اضافہ ہوا ہے جس میں امریکی سفیر سمیت چار امریکی ہلا ک ہو گئے تھے۔

اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام مبینہ طور پر ایک اسلام پسند گروہ انصار الشریعہ پر لگایا جاتا ہے جس کے صدر دفتر پر بھی حملہ کیا گیا تاہم ہلاکتیں ایک اور گروہ کے اڈے پر چھاپے کے دوران ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں ہوئیں۔

گواہوں کا کہنا ہے کہ انصار الشریعہ کے حامیوں نے جو سفید اور سیاہ جھنڈے لہرا رہے تھے ہجوم اور گروہ کے صدر دفتر کے درمیان ایک حصار قائم کرلیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولیاں چلائیں مگر انہیں اس وقت فرار ہونا پڑا جب ہجوم نے ان کے اڈے کو ’ملیشیا منظور نہیں‘ کے نعرے لگاتے ہوئے گھیرے میں لے لیا۔

اس کے بعد گاڑیوں اور عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا اور جنگجوؤں سے عمارت خالی کروا لی گئی۔

حکام اور گواہوں کے مطابق السحاتی بریگیڈ ملیشیا کے اڈے پر حملے کے دوران ہونے والی لڑائی میں چار افراد ہلاک اور بیس زخمی ہو گئے۔

بی بی سی کی رعنا جواد نے طرابلس سے بتایا کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ السحاتی بریگیڈ نامی مسلح گروہ وزارت دفاع کے تحت کام کرتا ہے۔

"میں نہیں چاہتا کہ مسلح لوگ افغانی طرز کے کپڑے پہنے مجھے گلی میں روک کر احکامات دیں، میں صرف لوگوں کو وردی میں دیکھنا چاہوں گا۔"

یونیورسٹی کےطالب علم عمر محمد

اعلیٰ لیبیائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر لوگوں کو غیر قانونی مسلح گروہوں اور ایماندار باغی بریگیڈز میں فرق کرنا چاہیے جنہوں نے پچھلے سال کی بغاوت کے دوران شہر پر قبضے میں مدد کی تھی۔

عمر محمد یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور انہوں نے انصار الشریعہ کے صدر دفتر پر قبضے میں حصہ لیا تھا۔ عمر محمد کا کہنا تھا ’میں نہیں چاہتا کہ مسلح لوگ افغانی طرز کے کپڑے پہنے مجھے گلی میں روک کر احکامات دیں، میں صرف لوگوں کو وردی میں دیکھنا چاہوں گا‘۔

لیبیا میں بہت سارے لوگوں نے امریکی قونصلیٹ پر حملے پر غم و غصے کا اظہار کیا جو کہ امریکہ میں بننے والی ایک اسلام مخالف فلم کے خلاف ہوا تھا۔

اس کے بعد سے لیبیا کی عبوری حکومت دوبارہ سے دباؤ میں آ گئی ہے کہ وہ ان مسلح گروہوں پر قابو پائے اور انہیں تحلیل کرے۔

جمعہ کے روز بن غازی میں ہونے والا احتجاجی مظاہرہ معمر قذافی کے دور حکومت کے اختتام کے بعد ہونے والا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

قذافی کی حکومت کو گرانے میں ان مسلح گروہوں کا کلیدی کردار تھا اور یہ گروہ لیبیا کی فوج کی بہ نسبت تعداد میں زیادہ اور بہتر ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔