افغانستان: پاکستانی اخبارات پر پابندی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 07:14 GMT 12:14 PST

دونوں ملکوں میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے واقعات کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

افغانستان میں حکومت نے پاکستانی اخبارات کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

افغان حکام کا موقف ہے کہ اخبارات طالبان جنگجوؤں کے مقاصد کو پورا کر رہے ہیں۔

افغان وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اخبارات’طالبان ترجمانوں کے پروپیگنڈے کا ذریعہ ہیں‘ اور مشرقی افغانستان میں پولیس کو حکم دیا ہے کہ تمام اخبارات کو ضبط کر لیا جائے۔

ابھی تک پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کے اقدام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ افغان حکام کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے کہ جب دونوں ملکوں میں سرحد پار حملوں کے تنازع پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

افغان وزارتِ داخلہ نے حکم دیا ہے کہ سکیورٹی فورسز خصوصی طور پر طورخم کے ذریعے اخبارات کی ملک آمد کو روکیں۔

وزارت دفاع نے اس اقدام کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ’اخبارات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور ملک کے مشرقی صوبوں میں عوام کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے حملے افغانستان میں ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نےکہا تھا کہ سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں ان کے درجنوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی بمباری کے نتیجے میں چار ہزار کے قریب افراد علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے صدر زرداری اور افغان صدر نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے جائزے کے حوالے سے علاقے میں ایک مشترکہ فوجی مشن بھیجنے پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان کا موقف ہے کہ پاکستان طالبان افغان علاقے میں پناہ حاصل کرتے ہیں اور پھر وہاں سے سرحد پار کر کے سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان شدت پسندوں کو بمباری میں نشانہ بناتے ہیں جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔