شام کی صورت حال بگڑ رہی ہے: اخضر ابراہیمی

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 21:42 GMT 02:42 PST

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی کا کہنا ہے کہ شام کی صورت حال بہت زیادہ خراب اور بگڑتی جا رہی ہے۔

یہ بات انہوں نے نیویارک میں پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی جانے والی بریفینگ کے بعد کہی۔

اخضر ابراہیمی نے کہا کہ وہ جلد ہی شام واپس جائیں گے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس شام میں امن قائم کرنے کا مکمل منصوبہ نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام کے دوسرے بڑے شہر حلب پر شامی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کی ہے۔

" اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شام میں صورت حال بہت خراب اور مزید بگڑتی جا رہی ہے جو خطے اور دنیا کے امن کے لیے ایک خطرہ ہے۔"

اخضر ابراہیمی

اخضر ابراہیمی نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شام میں صورت حال بہت خراب اور مزید بگڑتی جا رہی ہے جو خطے اور دنیا کے امن کے لیے ایک خطرہ ہے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ شام کی صورت حال کا سیاسی حل تقربیاً نا ممکن ہے۔

نامہ نگار کے مطابق شام میں حکومت اور حزب مخالف مزاکرات کی بجائے لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور اسی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اختلافات کا شکار ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں بیس ہزار سے زیادہ افرار مارے جا چکے ہیں جبکہ شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ تعداد تیس ہزار سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب شام کے نائب وزیرِ خارجہ نے ملک میں جاری تشدد کا الزام ’دہشت گرد گروہوں‘ پر عائد کیا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نیویارک میں منگل سے شروع ہونے واے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ’امن کا پیغام‘ لیکر جائیں گے۔

شام کی مقامی رابطہ کمیٹی کے مطابق ملک میں جاری جھڑپوں میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوئے جن میں سے تیرہ افراد حلب میں مارے گئے۔

دمشق کے شمالی اور مغربی علاقوں میں بھی حکومتی فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنعا کے مطابق فوج نے حلب میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کے دوران دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔