’مسلح گروہوں کو املاک چھوڑنے کی مہلت‘

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 05:38 GMT 10:38 PST

لیبیا میں مسلح گروہوں کے خلاف عوام کے غصے میں اضافہ ہوا ہے

لیبیا کی فوج نے مسلح گروہوں کو ریاستی اور فوجی املاک چھوڑنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک کمپلیکس سے ایک غیر قانونی مسلح گروہ کو نکال دیا گیا ہے۔

رواں ماہ امریکہ میں توہین آمیز فلم کے خلاف بن غازی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے مظاہرے پر تشدد ہوگئے تھے اور اطلاعات ہیں کہ دہشتگرد گروہ نے موقع کا فائدہ اٹھایا تھا۔

اس پرتشدد واقعے کے بعد لیبیا میں عبوری حکمران لیبیا نیشنل کانگرس کے سربراہ محمد مغاریف نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں تمام غیر قانونی مسلح گروہوں کو ختم کر دیا جائے گا۔

اس فیصلے کا مسلح گروہوں کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے خیر مقدم کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق علی نصر نے کہا’اگرچہ تاخیر کی گئی لیکن وہ محمد مغاریف کی اور ان کی فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، یہ ایک درست فیصلہ ہے جس کا کافی عرصے سے انتظار تھا، کم از کم بن غازی میں ہونے والے مظاہرے کے بعد، مطلب یہ کہ اب چہروں سے نقاب اتر چکے ہیں اور ہر چیز واضح ہو چکی ہے۔ ‘

ایک دوسرے شہری ابوبکر کے مطابق’ہمارے ساتھ کافی ہو چکا، ہم وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور قومی فوج چاہتے ہیں اور اب ہم کسی مسلح گروہ کو نہیں چاہتے ہیں، اب انقلاب مکمل ہو چکا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ معمر قذافی جا چکے ہیں۔‘

اس سے پہلے اتوار کو عبوری حکمران محمد مغاریف نے اعلان کیا تھا کہ حکومتی انتظام سے باہر تمام کیمپوں اور مسلح گروہوں کو تحلیل کر دیا جائے گا اور بغیر اجازت کسی بھی چوکی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

معمر قذافی کی حکومت کو گرانے میں ان مسلح گروہوں کا کلیدی کردار تھا

واضح رہے کہ مسلح گروہوں کے خلاف جارحیت میں گیارہ ستمبر کو بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے بعد اضافہ ہوا ہے جس میں امریکی سفیر سمیت چار امریکی ہلا ک ہو گئے تھے۔

اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام مبینہ طور پر ایک اسلام پسند گروہ انصار الشریعہ پر لگایا جاتا ہے۔

سفیر کی ہلاکت کے بعد بن غازی کے شہریوں نے مسلح گروہوں کو شہر سے نکال دیا تھا۔

لیبیا میں گذشتہ سال کرنل قدافی کی حکومت کا تختہ الٹے کے لیے بننے والے مسلح گروہ اور ملیشیا اب ایک اہم طاقت بن گئے ہیں۔

دارالحکومت طرابلس سے بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت نے حفاظتی اقدامات کے لیے انہی مسلح گروہوں کی مدد لی ہے اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت ان کو توڑنے کا انتہائی مشکل کام کیسے کر پاتی ہے۔

اس سے پہلے عوام اور ملٹری پولیس کے پرتشدد احتجاج کے بعد ایک طاقت ور مسلح گروہ نے اعلان کیا ہے کہ گروہ کو توڑا جا رہا ہے۔

لیبیا کے شہر بن غازی میں جمعہ کو کم از کم تیس ہزار افراد نے مسلح گروہ انصار الشریعہ کے مرکز پر دھاوا بول دیا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مسلح گروہوں کا خاتمہ کیا جائے اور قانون کی حکمران کو بحال کیا جائے۔

اعلیٰ لیبیائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر لوگوں کو غیر قانونی مسلح گروہوں اور ایماندار باغی بریگیڈز میں فرق کرنا چاہیے جنہوں نے پچھلے سال کی بغاوت کے دوران شہر پر قبضے میں مدد کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔