شہید، ہلاک اور ’واصل جہنم‘

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 12:11 GMT 17:11 PST
پاکستانی اخبارات

افغان حکام کے مطابق بیشتر پاکستانی اخبارات افغوان عوام کو افغان حکام سے لڑانا چاہتے ہیں

افغانستان نے مُلک کے اندر تمام پاکستانی اخبارات پر پابندی لگا دی ہے جس میں اردو، انگلش اور پشتو کے اخبارات شامل ہیں۔

افغانستان کی وزارت داخلہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اخبارات میں شدت پسند طالبان تنظیموں کے کہنے پر افغانستان کے سکیورٹی اہلکاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستانی اخبارات ان تمام شدت پسند تنظیموں کی خبروں میں پیش پیش ہیں جو افغانستان کی روایت اور ثقافت پر حملے کرنے میں مصروف ہیں۔

افغانستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ افغان عوام کو حکومت سے لڑانا چاہتے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ پاکستانی اخبارات شدت پسند تنظیموں کی ایسی خبریں چلا رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کے شہریوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات اور خدشات جنم لے رہے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستانی اخبارات افغان حکومت اور سکیورٹی اہلکاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور افغان حکومت کی مخالف تحریروں پر تُلے ہوئے ہیں۔

"مبصرین کے خیال میں روزنامہ ’شہادت‘ میں ہلاک ہونے والے افغان فوجیوں کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو عام طور پر میڈیا میں استعمال نہیں ہوتے۔ مثال کے کے طور پر جیسے ہلاک شدگان کے لیے لکھا جاتا ہے کہ ان کو ’واصل جہنم کردیا گیا‘"

افغانستان میں ایک صحافتی تنظیم کے سربراہ عبدالمجیب خلوت گار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بات نئی نہیں ہے کہ افغانستان میں پاکستانی اخبارات پر پابندی عائد کی گئی ہو بلکہ اس سے پہلے پاکستان میں بھی افغانستان کے ٹی وی چینلوں کی نشریات کو بند کیاگیا تھا۔ جس میں طلوع، لمر اور آریانہ چینل شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگوں کا حق ہے کہ وہ پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کریں لیکن اخبارات کے مدیروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں کسی مُلک کے قانون کا خیال رکھے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے تمام پاکستانی اخبارات پر پابندی لگا دی ہے لیکن اصل وجہ افغان شدت پسند تنظیم حزبِ اسلامی کے اخبار روزنامہ ’شہادت‘ کی ہے جس میں بعض اوقات ایسی خبریں شائع ہوتی ہیں جو افغان حکومت کو پسند نہیں ہیں۔

مبصرین کے خیال میں روزنامہ ’شہادت‘ میں ہلاک ہونے والے افغان فوجیوں کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو عام طور پر میڈیا میں استعمال نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر جیسے ہلاک شدگان کے لیے لکھا جاتا ہے کہ ان کو ’واصل جہنم کر دیا گیا‘۔

پشاور میں افغان نیوز ایجنسی (اے آئی پی) کے ڈائریکٹر محمد یعقوب شرافت نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان حکومت کو یہ شکایت ہے کہ پاکستانی اخبارات میں پاکستانی فوجیوں کے لیے شہید اور افغان فوجی کے لیے ہلاک یا ’وصل جہنم‘ لکھا جاتا ہے۔

"افغانستان میں ایک صحافتی تنظیم کے سربراہ عبدالمجیب خلوت گار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بات نئی نہیں ہے کہ افغانستان میں پاکستانی احبارات پر پابندی عائد کی گئی ہو بلکہ اس سے پہلے پاکستان میں بھی افغانستان کے ٹی وی چینلوں کی نشریات کو بند کیاگیا تھا"

اے آئی پی کے ڈائریکٹر محمد یعقوب شرافت نے بتایا کہ ان پابندیوں سے افغان حکومت کا مقصد یہ ہے کہ وہ اخبارات جو افغان حکومت کے خلاف لکھتے ہیں وہ افغان عوام تک نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے ایک افغان اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ وزرات داخلہ کی ایک ٹیم عنقریب ہی مشرقی افغانستان کا دورہ کرنے والی ہے۔تاکہ یہ معلوم کرسکے کہ ان اخبارات میں افغان حکومت کے خلاف کیا لکھا جاتا تھا اور ان کو کیوں بند کیاگیا ہے۔اس کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ افغان حکومت کو یہ بھی شکایت ہے کہ طالبان شدت پسند اپنے صفوں میں جہادی لٹریچر کی اشاعت پاکستانی چھاپہ خانوں سے کرواتے ہیں اور بعد میں پاکستانی اخبارات کے ساتھ افغانستان کے مختلف صوبوں میں ان کو تقسیم کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔