شام: جنگی طیاروں کی حلب پر بمباری

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 14:36 GMT 19:36 PST

حلب میں سرکاری فوجوں کی بمباری سے دو عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

حکومت مخالف انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ سرکاری فوجیں شام کے دوسرے بڑے شہر حلب پر جنگی طیاروں سے بمباری کر رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حلب کے علاقے مادی میں ایک ہوائی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین بچوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے۔

شہر کے کئی علاقوں میں سرکاری فوجوں اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

اسی دوران شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی نے صدر بشار الاسد سے ملاقات کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ مارچ دو ہزار گیارہ میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہزار کے قریب ہے۔

پیر کے روز مقامی رابطہ کمیٹی نامی ایک حکومت مخالف تنظیم نے اطلاع دی کہ جھڑپوں میں کم از کم چوبیس افراد مارے گئے ہیں جن میں سے پندرہ حلب میں مارے گئے۔

تنظیم کے مطابق مادی میں سرکاری جنگی طیاروں نے دو عمارتوں پر بم برسائے اور اب تک ملبے سے کم از کم آٹھ لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

انٹرنیٹ پر لگائی جانے والی ایک ویڈیو میں لوگوں کو ملبہ ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شہر کے دوسرے علاقوں سے بھی جھڑپوں کی خبریں ملی ہیں۔

"یہ اجلاس ایک احمقانہ منصوبہ تھا جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا تھا کہ (شام میں) بات چیت ہو رہی ہے"

فری سیرین آرمی

دمشق کے شمالی اور مغربی علاقوں میں بھی حکومتی فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی اخضر براہیمی نے ہفتے کے روز شام کے تنازعے کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون سے تبادلہ خیال کیا۔

دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس مسئلے کی وجہ سے ’خطے کے امن اور سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے اجتماع کے وجہ سے شام میں انسانی بحران کے حل کے لیے حمایت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔

ہفتے کے روز حزبِ مخالف کی بیس جماعتوں کے نمائندوں نے دمشق میں ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں انہوں نے صدر بشار الاسد کی حکومت کے پرامن اختتام کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے اس کانفرنس کی اجازت دی تھی۔

سیریا سالویشن کانفرنس کے ایک منتظم رجا النصر نے ’فوری جنگ بندی، وحشیانہ بمباری کے اختتام اور فوری امن معاہدے‘ کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدے سے ’سیاسی عمل کا راستہ کھل جائے گا ۔۔۔ جس سے بنیادی سیاسی تبدیلی، موجودہ حکومت کے خاتمے اور سنجیدہ جمہوریت کی راہ ہموار ہوئے گی۔‘

باغی تنظیم فری سیرین آرمی نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ’ایک احمقانہ منصوبہ تھا جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا تھا کہ (شام میں) بات چیت ہو رہی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔