’ابو حمزہ کو امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 11:00 GMT 16:00 PST

امریکی اور برطانوی حکام اب ان افراد کو منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ منتقلی آئندہ تین ہفتوں میں ہو سکتی ہے

امریکہ اور برطانیہ نے یورپی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت ابو حمزہ المصری سمیت چار افراد کو برطانوی حکام امریکہ کے حوالے کر سکیں گے۔ ان افراد پر دہشتگردی کے سلسلے میں الزامات ہیں۔

پیر کے روز عدالت نے ابو حمزہ اور دیگر ملزمان کی حتمی اپیل مسترد کر دی۔ برطانوی وزارتِ داخلہ نے اس فیصلے کے بعد اعلان کیا ہے کہ ملزمان کو جتنا جلد ممکن ہو سکا، امریکہ منتقل کر دیا جائے گا۔

یورپی عدالت کے اعلیٰ ترین ججوں کے ایک پینل نے ان افراد کے مقدمے کو عدالت کے گرینڈ چیمبر کے سامنے پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

ان ملزمان نے موقف اختیار کیا تھا کہ امریکہ میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جائے گا جس کی وجہ سے انہیں امریکی حکومت کے حوالے نہ کیا جائے۔

امریکی اور برطانوی حکام اب ان افراد کو منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ منتقلی آئندہ تین ہفتوں میں ہو سکتی ہے۔

ابو حمزہ پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکہ میں دہشتگردی کے تربیتی کیمپ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی اور یمن میں غیر ملکیوں کے اغوا میں ملوث تھے۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں انہیں عمر قید ہو سکتی ہے۔

ان کی قانونی جدوجہد میں آٹھ سال کا عرصہ اور لاکھوں پاؤنڈ صرف ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ایک جہادی ویب سائٹ چلانے کے ملزم بابر احمد اور سید طلحہ احسن کے کیس کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینی شائو کا کہنا ہے کہ ان کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔

بابر احمد کی حمایت کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں برطانیہ میں رکھنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

عدیل عبدل باری اور خالد ال فواز پر الزام ہے کہ وہ القاعدہ کے سابق رہنما اوسامہ بن لادن کے لیے لندن میں مددگار تھے۔

ان پانچ افراد پر دہشتگردی کے سلسلے میں امریکہ میں انیس سو ننانوے سے دو ہزار چھ کے دوران فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔

ابو حمزہ اور بابر احمد سنہ دو ہزار چار سے، طلحہ احسن دو ہزار چھ سے جبکہ عدیل عبدل باری اور خالد ال فواز انیس سو اٹھانوے سے زیرِ حراست ہیں۔ عدیل عبدل باری اور خالد الفواز طویل ترین عرصے تک بغیر مقدمے کے زیرِ حراست رکے جانے والے قیدی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔