اسلاموفوبیا کے خلاف قوانین بنانے کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 01:06 GMT 06:06 PST

دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم نے اسلام کے خلاف نفرت کے اظہار کو روکنے کے لیے قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے جس طرح مختلف ملکوں میں یہودیوں کے خلاف اظہار رائے اور ہولوکاسٹ سے انکار پر قوانین موجود ہیں۔

دنیا کے چھپن اسلامی ملکوں پر مشتمل تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کی طرف سے بات کرتے ہوئے پاکستان نے امریکہ میں پیغمبر اسلام کے بارے میں بننے والی توہین آمیز فلم کی مذمت کی جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی اور بہت سے ملکوں میں پرتشدد مظاہروں کا موجب بنی۔

پاکستان کے سفیر ضمیر اکرم نے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ فوری طور پر ریاستیں اپنے ملکوں میں ایسے قوانین نافذ کریں جو نفرت سے جنم لینے والے جرائم، نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مذہب کو منفی طور پر پیش کرکے لوگوں کو ہراساں کرنے اور دھماکانے اور مذہبی منافرت پھیلانے اور مقدس ہستیوں کی توہین کرنے کے رجحان کاسدباب کر سکیں۔‘

امریکہ میں اوباما انتظامیہ نے اس توہین آمیز فلم کی مذمت کی ہے اور اسے قابل نفرت قرار دیا ہے۔ لیکن مغربی ملک اسے آزادی رائے کے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور آزادی رائے پر کوئی قدغن لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پاکستان سمیت مختلف مسلمان ملکوں میں توہین مذہب کے قوانین کو وہ معاشرے میں جبر کی وجہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے سفیر نے کہا کہ بیہودہ انداز میں بنائی گئی یہ فلم، قرآن نذر آتش کرنے اور اشتعال انگیز خاکے بنانے کے واقعات مسلمانوں کے عقائد کی توہین کرنے، بدنام کرنے، تذلیل کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے کی دانستہ کوششیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی حرکات آزادی رائے کے زمرے میں نہیں آتیں اور یہ واضح طور پر تشدد پر اکسانا اور اشتعال دلانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا دورِ حاضر کی نسل پرستی ہے اور اس سے اسی طرح ہی نمٹا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ دوہرے معیار کی ایک بڑی مثال ہو گی۔ اسلاموفوبیا بھی قانون کی نظر میں اس طرح جرم ہونا چاہیے جیسے کہ یہودیوں کے خلاف تحریر اور تقریر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر آزادیِ اظہار کا ایک ایسا معیار مقرر کرنا ہو گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور جس میں آزادیِ اظہار اور تشدد اور نفرت پھیلانے میں فرق ہو۔

اقوام متحدہ نے سوموار کو کونسل میں کہا تھا کہ مذہبی آزادی اور آزادی اظہار میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا جس سے بظاہر مسلمان ملکوں کی طرف سے توہین مذہب کے قوانین متعارف کرانے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کے مطالبوں کی نفی ہوتی ہے۔

امریکہ کے سفیر ایلن چیمبرلین ڈوناہو کا کہنا تھا کہ جہاں پر اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے وہاں پر مذہب کی زیادہ تکریم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر آزادی رائے پر پابندی ہے وہاں ہم تشدد، غربت، مایوسی اور تذلیل دیکھتے ہیں۔

اسلامی رابطہ تنظیم نے گزشتہ ہفتے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ مذہب کی توہین کو بین الاقوامی جرم قرار دلوانے کے لیے ایک عرصے سے کی جانے والی کاوشوں کو پھر سے تیز تر کرے گا۔

افریقی ملکوں کی طرف سے ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس کی تائید او آئی سی کے ملکوں نے کی تھی اس کے مطابق تمام ملک اپنے قوانین میں ایسی شقیں شامل کریں جن کے تحت نسل اور مذہبی منافرت پھییلانے کو جرم قرار دیا جا سکے۔

اس قرارداد کا مسودہ جس میں مذہبی علامات اور مقدس ہستیوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے ان بتیس قرار دادوں میں سب سے زیادہ متازع قرارداد بن گئی ہے جو کہ سینتالیس رکن ملکوں کے اس فورم پر اس ہفتے رائے دہی کے لیے پیش کی جانے والی ہیں۔

قبرص نے یورپی یونین کی طرف سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نسل پرستی اور عدم برداشت کے خلاف جو موجودہ بین الاقوامی معاہدہ ہے وہ کافی ہے لیکن ضرورت صرف اس پر مؤثر طور پر عملدرآمد کرنے کی ہے۔

قبرص کے سفیر نے کہا کہ بہت سے ملکوں میں اس طرح کے قوانین اپنے مخالفوں کی آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔