شام میں بچوں کو تشدد کا سامنا ہے: سیو دی چلڈرن

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 05:04 GMT 10:04 PST

سیو دی چلڈرن نے اٹھارہ ماہ سے جاری شام میں کشیدگی کے دوران بچوں پر مظالم کے متعدد واقعات کا اندراج کیا ہے

بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ شام میں بچوں کو اغوا، تشدد اور قید کیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ ان مظالم کو بہتر طور پر ریکارڈ کرے۔

شامی پناہ گزین بچوں سے بات چیت کرنے کے بعد تنظیم نے اقوام متحدہ سے استدعا کی ہے کہ وہ شام میں اپنی موجودگی میں اصافہ کرے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم سے بات کرنے والے تقریباً ہر بچے نے اپنے اہلِ خانہ کے کم از کم ایک رکن کی ہلاکت دیکھی ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پیش کی گئی ہے۔

سیو دی چلڈرن نے اٹھارہ ماہ سے جاری شام میں کشیدگی کے دوران بچوں پر مظالم کے متعدد واقعات کا اندراج کیا ہے۔

تنظیم نے یہ اقدام شام کے قصبے دیرہ میں بچوں کو حراست میں لینے اور تشدد کرنے کے واقعات کی اطلاع کے بعد اٹھایا تھا۔

پندرہ سالہ ایک بچے نے تنظیم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’اسے اپنی ہی سکول کی عمارت میں جب قید رکھا گیا تو اس کے جسم پر سگریٹ بجھائے گئے۔‘

ایک اور بچے نے بتایا کہ اسے بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور اسی کمرے میں رکھا گیا جہاں لاشیں رکھی گئیں تھیں۔

ایک تیسرے نوجوان نے بتایا کہ ان کے سامنے ایک چھ سالہ بچے کو بھوکا رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا جس کے بعد وہ بچہ انتقال کر گیا۔

نوجوان کا کہنا تھا کہ چھ سالہ بچہ صرف تین روز تک زندہ رہ سکا اور وہ میری نظروں کے سامنے مر گیا۔

’انہوں نے اسی کی لاش کے ساتھ ایسے سلوک کیا جیسے وہ کسی کتے کی ہو۔‘

سیو دی چلڈرن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات بار ہا اور مسلسل ہو رہے ہیں۔

تنظیم کی ترجمان کیٹ کارٹر نے بتایا کہ انہوں نے دس سالہ بچوں تک پر تشدد کے بارے میں سنا ہے اور آٹھ سالہ بچوں کو بھی ملبے سے لاشیں نکالنی پڑی ہیں۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ مارچ دو ہزار گیارہ میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہزار کے قریب ہے۔

دریں اثناء شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی کا کہنا تھا کہ شام کی صورت حال بہت زیادہ خراب اور بگڑتی جا رہی ہے۔

نیویارک میں پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی جانے والی بریفنگ کے بعد اخضر ابراہیمی نے کہا کہ وہ جلد ہی شام واپس جائیں گے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس شام میں امن قائم کرنے کا مکمل منصوبہ نہیں ہے۔

البتہ شام کا معاملہ باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے پر نہیں ہے تاہم توقع ہے کہ یہ معاملہ بیشتر مباحثوں میں اٹھایا جائے گا۔

پیر کے روز مقامی رابطہ کمیٹی نامی ایک حکومت مخالف تنظیم نے اطلاع دی کہ جھڑپوں میں کم از کم چوبیس افراد مارے گئے ہیں جن میں سے پندرہ حلب میں مارے گئے۔

تنظیم کے مطابق مادی میں سرکاری جنگی طیاروں نے دو عمارتوں پر بم برسائے اور اب تک ملبے سے کم از کم آٹھ لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

اس کے علاوہ شہر کے دوسرے علاقوں سے بھی جھڑپوں کی خبریں ملی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔