بحرین:جمہوریت پسند کارکن کو قید کی سزا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 12:54 GMT 17:54 PST

زینب الخواجہ کو گزشتہ نو ماہ کے دوران متعدد بار حراست میں لیا گیا

بحرین میں عدالت نے جمہوریت کے حامی ایک ممتاز کارکن زینب الخواجہ کو دو ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں عدالتی ذرائع کے مطابق زینب کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا قصور وار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ زینب کے وکیل کے مطابق اس کا تعلق خلیفہ کی تصویر پھاڑنے کے الزام سے ہے۔

اطلاعات کے مطابق عدالت نے دو مقدمات پر کارروائی اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے جس میں ان پر غیر قانونی مظاہروں میں شرکت اور ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کا الزام ہے۔

زینب کے وکیل محمد الجیشی کے مطابق انہیں امید ہے کہ زینب کو جلد رہا کر دیا جائے گا کیونکہ گزشتہ ماہ دو اگست سے ریمانڈ پر تھیں اور عدالتی کارروائی کا انتظار کر رہیں تھیں۔

حکام کی جانب سے عدالتی فیصلے پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

محمد الجیشی کے مطابق زینب کو سخت سزا دی گئی ہے کیونکہ بادشاہ کی تصویر پھاڑنے کے جرم میں جرمانے کے سزا دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مظاہروں میں شرکت کرنے کے حوالے سے زینب الخواجہ کو مزید آٹھ الزامات کا سامنا ہے اور اس کے علاوہ تین الگ الگ عدالتی کارروائیاں جاری ہیں۔

ان میں سے ایک عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل ہے جس میں انہیں ایک فوجی ہسپتال میں ایک افسر کی تذلیل کے الزام میں قصور وار ٹھہراتے ہوئے ایک ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

زینب الخواجہ کو منامہ میں احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا

ان پر دیگر الزامات میں غیر قانونی مظاہرے میں شرکت کرنا اور حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے اور ٹریفک میں خلل ڈالنا ہے۔

زینب الخواجہ کو گزشتہ نو ماہ کے دوران کئی بار حراست میں لیا گیا ہے اور متعدد بار ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی گئی۔

زینب کے والد عبدالہادی بھی جمہوریت کے حامی آٹھ کارکنوں میں شامل ہیں جنہیں حکومت کے خلاف سازش کے جرم میں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔

ان کارکنوں نے رواں ماہ کے آغاز پر فوجی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا کے خلاف سول عدالت میں اپیل کی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔

بحرین میں فروری سال دو ہزار گیارہ میں جمہوریت کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے دوران اب تک کم از کم ساٹھ کے قریب کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔

بحرین میں شیعہ اکثریت سنّی حکمرانوں سے ملک میں جمہوری اصلاحات اور شیعوں کے لیے مزید حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔