برازیل: گوگل کے صدر کی گرفتاری کا حکم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 04:19 GMT 09:19 PST

گوگل نے کہا ہے کہ وہ یوٹیوب کے مواد کا ذمے دار نہیں ہے۔

برازیل کے ایک مقامی جج نے برازیل میں گوگل کے صدر فیبیو ژوزے سِلوا کوئلیو کی گرفتاری کا حکم دیا ہے کیونکہ گوگل نے یوٹیوب پر چند ویڈیوز ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز میں ایک امیدوار کے خلاف بہتان تراشی کی گئی ہے جو میئر کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

جج نے گذشتہ ہفتے ویڈیوز ہٹانے کا حکم دیا تھا لیکن گوگل نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ گوگل یوٹیوب پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز کے مواد کے لیے ذمے دار نہیں ہے۔

برازیلی میڈیا کے مطابق اس ویڈیو میں ظاہر کیا گیا ہے کہ کیمپو گراندے نامی شہر کے میئر کے عہدے کے امیدوار الیسیدیس برنال نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

ماتو گراسو دو سول ریاست کی انتخابی عدالت کے جج فلاویو پیرین نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ ویڈیوز مقامی انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

لیکن گوگل کی طرف سے یوٹیوب پر سے ویڈیوز کو ہٹانے کے حکم کو نظرانداز کیے جانے کے بعد انھوں نے پیر کے روز کوئلیو کی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق گوگل کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہا ہے۔

اس سے قبل گوگل نے کہا تھا کہ انٹرنیٹ ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں رائے دہندگان سیاسی امیدواروں کے بارے میں اپنے خیالات و نظریات آزادی کے ساتھ پیش کر سکیں۔

گوگل جو مواد اپنی ویب سائٹوں پر پیش کرتا ہے اس کی ذمے داری پر حالیہ دنوں میں سوال اٹھا ہے۔ خاص طور پر ایک اسلام مخالف فلم پر تمام مسلم دنیا میں پرتشدد احتجاج کیا گیا ہے اور کئی ملکوں نے یوٹیوب اور گوگل کو بند کر دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔