کرنل قذافی کو پکڑنے والے کی ہلاکت پر سوگ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST

عمران بن شعبان کے جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے

لیبیا کے معزول حکمراں کرنل معمر قذافی کو گزشتہ برس پکڑنے والے نوجوان عمران بن شعبان کی موت پر ہزاروں لوگ سوگوار ہیں جنہوں نے مصراتہ میں ان کے جنازے میں شرکت کی ہے۔

بائیس سالہ عمران بن شعبان کی موت منگل کے روز ہوئي تھی۔

کرنل معمر قذافی کے حامیوں نے انہیں اغوا کر لیا تھا جس کے بعد انہیں اذیتیں دی گئیں اورگولی بھی ماری گئی تھی۔

علاج کے لیے انہیں پیرس لیجایا گیا تھا لیکن انہیں بچایا نہیں جا سکا۔

گزشتہ برس کرنل معمرقذافی کوگرفت میں لینے کا سہرا عمران بن شعبان کے سر ہی جاتا ہے۔ ان کی لاش بنی ولید سے ان کے آبائی شہر مصراتہ لائی گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مسٹر شعبان کی آخری رسومات اسی نہج پر ادا کی جائیں گی جو ملک کے ایک ہیرو کے لیے ہونی چاہئیں۔

ادھر طرابلس میں مظاہرین نے حکومت سے شعبان کی موت کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے مرتکبین کو بخشا نہیں جائے گا۔

عمران بن شعبان کو جولائی میں اغوا کیا گيا تھا اور بنی ولید میں انہیں پچاس روز پرغمال بنائے رکھا گيا۔ بنی ولید میں کرنل قذافی کے حامیوں کی اب بھی ایک بڑی تعداد ہے۔

لیبیا کی حکمراں جماعت جنرل نیشنل کانگریس کے رہنما محمد مغریفی کی ثالثي کی وجہ سے انہیں گزشتہ ہفتے ہی رہا کیا جا سکا تھا۔

جب انہیں مصراتہ لایا گیا تو ان کے جسم پر ٹارچر کے نشانات تھے اور ریڑھ کی ہڈی کے پاس گولی لگنے کا بھی زحم تھا۔ انہیں علاج کے لیے پیرس لے جایا گيا لیکن وہ بچ نہیں سکے۔

مسٹر شعبان گزشتہ برس بیس اکتوبر کو اس وقت سرخیوں میں آئے جب انہیں ایک ٹنل سے کرنل قذافی کو پکڑتے ہوئے دیکھا یا گيا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔