’آزادیِ اظہار لامحدود نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 07:39 GMT 12:39 PST

اقوامِ متحدہ کا صدر دفتر

مسلم رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ سے امریکی صدر براک اوباما کے خطاب کے جواب میں مذہبی توہین کے خلاف بین الاقوامی عمل کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خطاب میں امریکی صدر نے آزادیِ اظہار کا دفاع کیا تھا۔

صدر اوباما نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں تقریر کرتے ہوئے ’تشدد اور عدم برداشت‘ کی شدید مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کی ذمے داری ہے کہ وہ پچھلے دو ہفتوں میں امریکیوں پر ہونے والے مہلک حملوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ یہ حملے امریکہ میں بننے والی ایک فلم کے ردِ عمل میں کیے گئے تھے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق مسلم بادشاہوں، صدور اور دوسرے سربراہانِ مملکت نے کہا کہ مغربی ملکوں کو ’اسلاموفوبیا‘ کو کچلنا چاہیے جو اس فلم سے پیدا ہونے والے طوفان کے بعد شروع ہوا ہے جس میں پیغمبرِ اسلام کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

دنیا کے سب زیادہ آبادی والے مسلمان ملک انڈونیشیا کے صدر سسیلو بامبانگ یدھویونو نے کہا کہ یہ فلم مذہبی ہتک کا ’بدنما چہرہ‘ ہے۔

یودھویونو نے کہا کہ ہر کسی کو اخلاقیات اور نظم و ضبط کا خیال رکھنا چاہیے، اس لیے ’آزادیِ اظہار لامحدود نہیں ہے‘۔

"ہر کسی کو اخلاقیات اور نظم و ضبط کا خیال رکھنا چاہیے، اس لیے ’آزادیِ اظہار لامحدود نہیں ہے‘۔ ایک ’ایسی بین الاقوامی دستاویز‘ بنائی جائے جو ’مذہبی عقائد کی بنیاد پر تشدد اور مخالفت اکسانے کو مؤثر طور پر روک سکے‘۔"

انڈونیشیا کے صدر

انھوں نے ایک ’ایسی بین الاقوامی دستاویز‘ کا مطالبہ کیا جو ’مذہبی عقائد کی بنیاد پر تشدد اور مخالفت اکسانے کو مؤثر طور پر روک سکے۔‘

امریکہ کے قریبی ساتھی اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے فلم اور اس کے نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے تشدد کی مخالفت کی۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے مسلمانوں کے خلاف ’نفرت انگیز اشتعال‘ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ اس پر کارروائی کرے۔

انھوں نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’اگرچہ ہم کبھی بھی تشدد کو درگزر نہیں کرتے، بین الاقوامی برادری کو خاموش تماشائی کا کردار نہیں ادا کرنا چاہیے اور انھیں ایسے اقدامات کو جرم قرار دینا چاہیے جو عالمی امن کو برباد کرتے ہیں اور آزادیِ اظہار کے غلط استعمال سے عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔‘

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ’انتہاپسندوں کی بداخلاقی‘ کی مذمت کی جنھوں نے فلم بنا کر طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

انھوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’اسلاموفوبیا ایک تشویش ناک عمل ہے جو امن اور بقائے باہمی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘

چونکہ امریکی آئین آزادیِ اظہار کا تحفظ کرتا ہے اس لیے صدر اوباما انٹرنیٹ سے اس ویڈیو کو نہیں ہٹا سکتے جو بظاہر مصری قبطی عیسائیوں نے بنائی ہے۔

صدر اوباما نے سربراہی کانفرنس کو بتایا ’ملک کے صدر اور فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے میں تسلیم کرتا ہوں کہ لوگ ہر دن میرے بارے میں بری باتیں کرتے ہیں، لیکن میں ہمیشہ ان کے اس حق کا دفاع کروں گا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’گذشتہ دو ہفتوں میں ہونے والے حملے صرف امریکہ پر حملے نہیں ہیں۔ یہ ان اصولوں پر بھی حملہ ہیں جن پر اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی، اور وہ اصول یہ ہیں کہ لوگ اپنے اختلافات کو امن و آشتی سے حل کریں۔‘

"فلم کی وجہ سے ہونے والے ہنگامے کی وجہ سے آزادیِ اظہار ۔۔۔اور مذہبی توہین ۔۔۔ کے درمیان بہت بڑی خلیج منظرِ عام پر آئی ہے۔"

سٹیورٹ پیٹرک

بین الاقوامی تعلقات نامی ایک تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کار سٹیورٹ پیٹرک کہتے ہیں کہ فلم کی وجہ سے ہونے والے ہنگامے کی وجہ سے آزادیِ اظہار، جس پر امریکہ میں زیادہ زور دیا جاتا ہے، اور مذہبی توہین جو کئی لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، کے درمیان بہت بڑی خلیج منظرِ عام پر آئی ہے۔‘

لیکن آزادیِ اظہار کے سوال سے ہٹ کر بعض مسلم رہنما یہ بھی کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ مسلمان ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن نہیں رکھ پائی۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا کہ قاہرہ میں امریکہ مخالف مظاہروں کے باوجود امریکہ کی طرف سے عرب ممالک میں انقلاب کی حمایت سے ایک دوسرے کے احترام کا موقع مل سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔