’فلسطین کو غیر رکن ملک کی حیثیت دیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 23:49 GMT 04:49 PST

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اقوم متحدہ میں فلسطین کو غیر رکن ملک کی حیثیت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے جاری یہودی آبادکاری سے دو ریاستی حل کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں جمعرات کو اپنے خطاب میں محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطین کے لیے اقوام متحدہ میں ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے رکنیت حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

گزشتہ سال امریکہ کی طرف سے شدید مخالفت کی وجہ سے محمود عباس فلسطین کے لیے اقوام متحدہ میں ایک خود مختار ملک کا درجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے اس لیے اس سال وہ فلسطین کے لیے ایک غیر رکن ملک کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک قرار داد منظور کرانے کی کوشش کریں گے تاکہ فلسطین کو غیر رکن ملک کا درجہ حاصل ہو جائے جیسا کے ویٹیکن کو حاصل ہے۔

فلسطین کو اس وقت اقوام متحدہ میں ایک مبصر کی حیثیت حاصل ہے اور اسے ملک کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاتا۔ غیر رکن ملک کا درجہ حاصل کرنے سے فلسطین کو دیگر بین الاقوامی اداروں میں رکنیت حاصل ہو جائے گی جن میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت بھی شامل ہے جہاں وہ اسرائیل کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست پیش کر سکتا ہے۔

امریکہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے کونسل میں کسی بھی ایسی قرار داد کو ویٹو کر سکتا ہے جس میں فلسطین کے لیے مکمل رکنیت کی حمایت کی گئی ہو۔

لیکن جنرل اسمبلی میں کوئی بھی ملک کسی ایسی قرار داد کو روک نہیں سکتا جس کی جنرل اسمبلی کے ایک سو ترانونے رکن ملکوں کی اکثریت حمایت کرنے کا فیصلہ کر لے۔

محمود عباس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل اسمبلی میں رکن ملکوں کی اکثریت ان کی فلسطین میں انصاف پر مبنی امن قائم کرنے کی کوششوں کو بچانے کی حمایت کرے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ میں سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس مرتبہ محمود عباس اپنی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں۔

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ دو سال سے منقطع ہے۔ اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کا موقف ہے جب تک اسرائیل غیر قانونی یہودی بستوں کی تعمیر کا سلسلہ بند نہیں کرتا وہ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے۔

امریکہ اسرائیل کی طرف سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کرتا ہے لیکن اقوام متحدہ میں اپنے قریبی اتحادی پر کوئی حرف بھی نہیں آنے دیتا۔

محمود عباس نے کہا کہ موجودہ زمینی حقائق کی تمام تر پیچیدگیوں اور مایوسیوں کے باوجود وہ بین الاقوامی برادری سے کہتے ہیں کہ ابھی بھی موقع ہے اور شاید آخری موقع ہے کہ امن قائم کرنے کے دو ریاستی حل کو بچا لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غرب اردن میں یہودی آبادکاری سے فلسطینی عوام کے لیے نئے غذاب تیار کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے منگل کو کہا تھا کہ دو ریاستی حل فلسطین میں امن قائم کرنے واحد قابل عمل طریقہ ہے۔ اسرائیل کی طرف سے غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا مطلب ہے اس دو ریاستی حل کے لیے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیئے جائیں۔

محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ ایک سال سے یہودی بستیاں بیت المقدس اور اس کے اردگر تعمیر کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے گھر مسمار کر کے یہودی بستیوں کی تعمیر، فلسطینیوں کے گھر دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہ دینے اور ان کے رہائشی حقوق کو ختم کر کے نسل کشی کر رہا ہے۔

محمود عباس کے خطاب کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے خطاب اور کہا اس طرح کی الزام تراشیوں پر مبنی تقریروں سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یکہ طرفہ طور پر خود مختار ملک ہونے کا اعلان کرنے سے بھی امن قائم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے بیٹھ کر بات کرنا ہوگی اور باہمی طور پر سمجھوتہ کرنا ہوگا جس میں ایک غیر مسلح فلسطینی ریاست کو واحد یہودی ریاست کو تسلیم کرنا ہوگا۔

بن یامین نتنیاہو کی تقریر کا زیادہ حصہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔