ایران: صدر احمدی نژاد کے اہم مشیر گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 11:07 GMT 16:07 PST

علی اکبر جوانفکر گذشتہ سال میں گرفتار ہونے والے صدر کے درجنوں حامیوں میں سے ایک ہیں

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ کو ایران کے رہنماء آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف مواد شائع کرنے کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

علی اکبر جواں فکر ایران کی ریاستی خبر رساں ایجنسی کے سربراہ بھی ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران صدر احمدی نژاد کے درجنوں حامیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

علی اکبر جواں فکر کو بدھ کے روز گرفتار کیا گیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ صدر احمدی نژاد اور آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کی ایک کڑی ہے۔

علی اکبر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سرکاری اشاعت میں لکھا کہ ایران میں خواتین کے ’چادر‘ پہنے کی روایت درحقیقت ایرانی روایت نہیں اور یہ برآمد کی گئی ہے۔

ایران میں مذہبی رہنماؤں نے اس بات کی مذمت کی ہے۔

علی اکبر جواں فکر کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی ہے جب ایرانی صدر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال بھی علی اکبر جواں فکر کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم صدر کے اصرار پر رہا کر دیا گیا۔

بی بی سی کی کسرا ناجی کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بار ایرانی صدر کے مخالفین نے ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص کو جیل بھجوا دیا ہے جو کہ کئی برسوں سے صدر کے اہم مشیر ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔