’ایران اتنا مضبوط ہے کہ اپنا دفاع کر سکے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 15:56 GMT 20:56 PST

ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کو تیار ہے۔

ایران کی جانب سے یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک حد مقرر ہونی چاہیے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایک جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے کافی یورینیم کے حصول سے روکنے کے لیے وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران اگلے سال کے نصف تک اتنا یورینیم جمع کر لے گا وہ ایک جوہری ہتھیار حاصل کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’حدیں مقرر کرنا جنگ کی طرف نہیں لے کر جاتا بلکہ جنگ کو روکتا ہے اور دنیا کو کسی اور چیز سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران سے ہو سکتا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد کی گئی پابندیوں نے تہران کے جوہری پروگرام پر کوئی اثر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ’واضح حد کے تقرر کے بعد ایران کو پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے‘۔

انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ اس معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے نائب اشگ الحبیب نے جواباً کہا کہ ’ایران اتنا مضبوط ہے کہ اپنا دفاع کر سکے اور کسی بھی جارحانہ حملے کا پوری قوت سے جواب دے سکے‘۔

مغربی ممالک ایران پر شبہ کرتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جس الزام کو ایران رد کرتا ہے۔

تہران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ہر امن مقاصد کے لیے اور طبی آیسوٹوپس کے حصول کے لیے ہے۔

ایرانی نائب سفیر نے اسرائیلی وزیر اعظم پر جنرل اسمبلی کی تقریر میں بے بنیاد الزامات لگانے کا الزام لگایا۔

منگل کو امریکی صدر براک اوباما نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ’جو ہو سکا وہ کرے گا‘ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصوال سے روکنے کے لیے۔

امریکہ نے ایران پر حملے کو ابھی مسترد نہیں کیا مگر اس کا کہنا ہے کہ ایران پر بڑی طاقتوں کی جانب سے مزاکرات اور پابندیوں کو کام کرنے کا مزید وقت دیا جانا چاہیے۔

اس ماہ کے آغاز میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ ابھی ایران کے معاملے میں ’آخری حدیں‘ مقرر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔