عراق: تکریت جیل پر حملہ، نوے قیدی فرار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 14:10 GMT 19:10 PST

اس جیل میں سینکڑوں قیدیوں کو رکھا گیا تھا اور کئی کا مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق ہے

عراق کے شہر تکریت میں مسلح افراد نے ایک جیل پر حملہ کر کے بارہ محافظوں کو ہلاک جبکہ نوے قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے۔

ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے اس جیل پر قبضہ کر لیا تھا لیکن سکیورٹی فورسز نے قبضہ واپس لے لیا ہے۔

یہ حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو کیا گیا اور جمعہ کی صبح تک جاری رہا۔

حملے میں پہلے جیل کے مرکزی دروازے پر ایک کار بم دھماکہ کیا گیا اور پھر حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان چھڑپ شروع ہو گئی۔

اس جیل میں سینکڑوں قیدیوں کو رکھا گیا تھا اور کئی کا مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق ہے۔ اس واقعے کے بعد تکریت میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

عراق کے وزیر قانون حاکم ال زلمے نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’جیل سے فرار ہونے والوں میں القاعدہ کے اہم شدت پسند بھی شامل ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’مفرور افراد نے چند ایسی دستاویزات بھی چوری کر لی ہیں جن میں ان کے خلاف معلومات فراہم کرنے والے لوگوں کی شناخت درج تھی۔‘

حملے میں قیدیوں کے بارے میں جیل میں موجود ریکارڈ کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کو دوبارہ ڈھونڈنا ناممکن ہوگیا ہے۔

اس کے علاوہ وہ پولیس کی ایک گاڑی اور محافظوں سے اسلحہ بھی لے بھاگے ہیں۔

بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار رومی روحایم نے بتایا کہ یہ حملہ بظاہر منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور اس میں حملہ آوروں اور قیدیوں کے بیچ مطابقت نظر آئی۔

اس جیل سے ماضی میں بھی قیدیوں کے فسادات کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ اپریل میں پولیس نے قیدیوں سے فرار کا ایک منصوبہ بھی برآمد کیا تھا۔

عراق میں اس سے پہلے بھی جیلوں پر حملے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔