شامی کیمیائی ہتھیاروں کی محفوظ جگہ منتقلی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 17:00 GMT 22:00 PST

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت نے بعض کیمائی ہتھیاروں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تو اپنی جگہ پر ہر تاہم محدود پیمانے پر نقل و حرکت کی گئی ہے۔

شام کی حکومت اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ اس کے پاس بڑی مقدار میں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کر رکھا ہے کہ اگر دمشق نے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے جواب دہ ہونا پڑےگا۔

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے پینٹاگون میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ’کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں خدشات ابھی تک قائم ہیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ’شام کی فوج کے پاس تاحال محفوظ ہیں۔‘

لیون پنیٹا نے مزید کہا ’ان ہتھیاروں سے متعلق بعض انٹیلیجنس اطلاعات تھیں کہ ان میں سے کچھ کو مزید محفوظ بنانے کے لیے دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔‘
شام نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس موجود ہتھیاروں میں مسٹرڈ گیس اور سیرن شامل ہیں جو اعصاب پر اثر کرنے والی زہریلی گیسیں ہیں۔

سی آئی اے کے مطابق ان ہتھیاروں کو ہوائی جہاز، بیلیسٹک میزائل اور آرٹلری راکٹس کے ذریعے کسی جگہ پھینکا جا سکتا ہے۔

تاہم شام میں اٹھارہ ماہ سے جاری لڑائی کے دوران ان کے استعمال سے متعلق شواہد نہیں ملے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔