خضر گوانتانامو کے کم عمرترین قیدی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 20:46 GMT 01:46 PST

عمر خضر کو پندرہ سال کی عمر میں افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

خیلج گوانتانامو کے امریکی قید خانے میں بند سب سے کم عمر قیدی عمر خضر کو کینیڈا کی ایک جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

سنہ دو ہزار دو میں پندرہ سال کی عمر میں افغانستان میں پکڑے جانے کے بعد سے عمر خضر کیوبا میں واقع امریکی فوجی اڈے پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گرفتار کیے جانے والوں کے لیے بنائی گئی اس جیل میں قید تھے۔

ایک فوجی جہاز کے ذریعے ہفتے کو عمر خضر کو کیوبا سے کینیڈا منتقل کیا گیا۔

عمر خضر گوانتانامو میں قید کسی مغربی ملک سے تعلق رکھنے والے آخری قیدی تھے۔

وہ اپنی سزا کا باقی حصہ کینیڈا کی جیل میں گزاریں گے۔ انہوں نے افغانستان میں ایک امریکہ فوجی کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

خضر امریکی فوجی جہاز میں کینیڈا پہنچے جہاں سے انہیں مل ہیون کے حراستی مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی وزارِت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت نے عمر خضر کو کینیڈا کی حکومت کے حوالے کر دیا ہے جہاں وہ اپنی سزا کا باقی عرصہ قید میں گزاریں گے۔

خضر کو ایک امریکی فوجی عدالت نے سنہ دو ہزار دس میں جنگی جرائم میں چالیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

خضر کے خلاف جنگی قانون کی خلاف ورزی کرنے، جنگی قوانین کے خلاف قتل کرنے، سازش کرنے، دہشت گردوں کی معاونت کرنے اور جاسوس کرنے کے الزامات تھے۔

لیکن ان کی جرائم کے اعتراف کے عوض سزا کو چالیس سال سے کم کرکے آٹھ سال کر دیا گیا تھا۔

اپنے جرائم کے اعتراف کے بعد ہی انھیں گزشتہ اکتوبر میں کینیڈا منتقل کرنے کی سہولت دی گئی تھی۔

عمر خضر کی کہانی

  • سنہ انیس سو چھیاسی: پیدائش، ٹورنٹو کینیڈا
  • سنہ انیس سو چھیانوے: گھر والے کینیڈا سے جلال آباد افغانستان منتقل ہوگئے جہاں ان کی اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دوسرے سرکردہ ارکان سے اکثر ملاقات ہوتی رہتی تھی۔
  • سنہ دو ہزار دو: دہشت گردوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کی امریکی اور افغان فوج سے جھڑپ کے دوران گرفتار ہوئے۔
  • سنہ دو ہزار سات: جنگی جرائم کے خلاف قتل کرنے، سازش کرنے ، دہشتگردوں کی معاونت کرنے اور دیگر کئی جرائم کے سزا وار قرار پائے۔
  • سنہ دو ہزار آٹھ: ایک ویڈیو میں ان سے کینیڈا کے حکام کو تفتیش کرتے ہوئے دکھایا گیا جس میں وہ نامناسب طبی سہولیات کی شکایت بھی کرتے ہیں۔
  • سنہ دو ہزار دس: اپنی سزا کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے بعد ان کی چالیس سال کی مجموعی سزا کو کم کرکے آٹھ سال کر دیا جاتا ہے۔
  • سنہ دو ہزار بارہ: امریکہ فوج کے خلیج گوانتانامو میں قائم حراستی مرکز سے کینیڈا میں ایک جیل میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

کینیڈا نے ان پر چلائے جانے والے مقدمے کے دوران مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔

کینیڈا کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کینیڈا کی حکام کی طرف سے گوانتانامو میں عمرخضر سے تفتیش سے ان کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

کینیڈا میں عوام کی اکثریت نے ان کی کینیڈا واپسی کی حمایت کی تھی۔

خضر جو اب چھبیس سال کے ہو چکے ہیں کینیڈا کے حکام کی نظر میں القاعدہ تنظیم کے حمایتی ہیں اور ایک سزا یافتہ دہشت گرد ہیں۔ کینیڈا کے عوام میں بھی ان کے مقدمے کے حوالے سے منقسم رائے پائی جاتی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خضر اور ان کے خاندان کے دوسرے افراد معاشرے کے لیے خطرہ ہیں جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے وہ کم عمری کے باعث شدت پسند اسلامی نظریات کا شکار ہوئے اور امریکی حکام کے ہاتھوں ظلم کا نشانہ بنے۔

خضر کے خاندان کو کینیڈا میں دہشت گردوں کا پہلا خاندان کہا جاتا ہے۔

عمر خضر کے والد جو اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی تھے سویت یونین کے افغانستان پر حملے کے خلاف مجاہدین کی مدد کرنے کے لیے اپنے خاندان سمیت پشاور پاکستان منتقل ہوگئے جب عمر خضر کی عمر بہت کم تھی۔ عمر خضر کے والد سنہ دو ہزار تین میں پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوئے۔

اس جھڑپ میں ان کا بڑا بھائی گولی لگنے کی وجہ سے پیروں سے معذور ہو گیا۔ خضر کا ایک اور بھائی کچھ دن قبل ٹورنٹو میں قید سے رہا ہوا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے الزام میں امریکی حکومت کو حوالے کیے جانے کے خلاف مقدمہ عدالت سے جیتا۔

عمر خضر کی بہن زینب اور ان کی والدہ ماہ کینیڈا میں اپنے شدت پسند خیلات کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ خلیج گوانتانامو میں اب بھی ایک سو چھیاسٹھ قیدی موجود ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔