شام: باغیوں کو شدید نقصان پہنچانے کے دعوے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 ستمبر 2012 ,‭ 08:45 GMT 13:45 PST

حلب شہر کے کئي علاقوں سے شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں

شام کے شہر حلب میں اطلاعات کے مطابق حکومت نے تازہ حملوں میں باغیوں کو شدید نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔

واضح رہے کہ باغیوں کے کمانڈر نے شہر پر قبضے کے لیے جمعے کو حملے کا اعلان کیا تھا۔

فریقین کے جانب سے حلب کے کئي علاقوں میں لڑائی جاری ہے لیکن حکومتی میڈیا کے مطابق جوابی حملے میں باغیوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر جاری ایک بیان میں کہا گيا کہ’ دہشت گردوں‘ کے دس ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں انہیں زبردست نقصان پہنچا۔

حزب اختلاف کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جمعے کو ملک کے مختلف علاقوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے جس میں سے چالیس کا تعلق حلب سے ہے۔

حلب کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کو انہوں نے پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر تشدد دیکھا۔

زیاد نامی ایک شخص کا کہنا تھا ’ لڑائی کی آوازیں رکی ہی نہیں، ہر شخص ڈرا ہوا ہے، میں نے اس طرح کی آوازیں اس سے پہلے کبھی نہیں سنیں‘۔

باغیوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن ابو فرات کا کہنا تھا کہ ’باغیوں کو پیچھے اس لیے ہٹنا پڑا کیونکہ ان کے پاس بندوقوں کی کمی تھی۔ گلیوں میں گوریلا جنگ جیتنے کے لیے آپ کے پاس بم ہونے چاہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں‘۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال سے لگتا ہے کہ باغیوں کے پاس اسلحہ بارود اور لوگوں کی کمی ہے جس سے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی جا سکے۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس کے برعکس حکومت نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر ٹینک جیسے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ فضائيہ کا استعمال بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔