لیبیا: شہریوں نے ہتھیار واپس کرنا شروع کر دیے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 09:37 GMT 14:37 PST

لیبیا میں دو لاکھ سے زائد مسلح افراد موجود ہیں

سینکڑوں لیبیائی شہریوں نے بن غازی اور طرابلس میں ہتھیار حکومت کے پاس جمع کروانا شروع کر دیا ہے۔ یہ حکومت کی طرف ملک کو اسلحے سے پاک کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔

لوگوں نے رائفلیں، طیارہ شکن توپیں، راکٹ لانچر، حتیٰ کہ ٹینک تک فوج کے حوالے کیے۔

لیبیا کی حکومت کی طرف سے ہتھیار واپس کرنے کی درخواست ایک نجی ٹیلی ویژن کی وساطت سے کی گئی تھی۔

اس مہم میں تیزی اس وقت آئی جب بن غازی میں امریکی سفیر مارے گئے تھے۔

جن مسلح گروہوں نے گذشتہ برس معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کردار ادا کیا تھا، وہ اب بھی ملک کے اندر ایک طاقتور قوت کی حیثیت سے موجود ہیں۔

لیبیا کے عبوری رہنما محمدالمغریف نے گیارہ ستمبر کو امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت کے بعد تمام غیر قانونی مسلح گرہوں کو غیر مسلح کرنے کا عزم کیا تھا۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق بن غازی میں اس مہم کے ایک منتظم احمد سالم نے کہا کہ آٹھ سو سے زیادہ شہریوں نے اسلحہ جمع کرنے کے مرکزی مقام پر اپنے ہتھیار جمع کروائے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چھ سو سے زیادہ اقسام کے ہتھیار واپس کیے گیے ہیں۔ طرابلس میں چوکِ شہدا میں دو سو سابق جنگ جوؤں نے دو ٹینک بھی واپس کیے۔

اس مہم کی تشہیر میں الحرہ لیبیا نامی ٹیلی ویژن نے تعاون کیا تھا۔ اس چینل پر اسلحہ واپس کرنے کے مناظر براہِ راست دکھائے گئے۔

"جب میں نے ٹیلی ویژن پر یہ اعلان دیکھا تو میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ فوج کو اپنا اسلحہ واپس کرنے آ گیا تا کہ میں انقلاب کے مرحلے سے گزر کر ریاست سازی کے مرحلے تک پہنچ سکوں۔"

اس موقع پر فوج کے سربراہ نے کہا کہ ملک کو استحکام کی ضرورت ہے۔ روئٹرز کے مطابق یوسف المنقوش نے کہا لوگ ہتھیار واپس کر رہے ہیں تا کہ وہ ان کی صحیح جگہ پر رکھے جا سکیں نہ کہ گلی کوچوں میں۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مہم لیبیا کے دوسرے شہروں تک بھی پھیلائی جائے گی۔

حکومت کا اندازہ ہے کہ لیبیا میں دو لاکھ سے زائد مسلح افراد موجود ہیں۔ اس سے قبل لوگوں کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کو زیادہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

ہتھیار واپس کرنے والوں میں سابق قذافی مخالف جنگجو بھی شامل ہیں۔

موسیٰ عمر نے اے پی کو بتایا ’جب میں نے ٹیلی ویژن پر یہ اعلان دیکھا تو میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ فوج کو اپنا اسلحہ واپس کرنے آ گیا تا کہ میں انقلاب کے مرحلے سے گزر کر ریاست سازی کے مرحلے تک پہنچ سکوں۔‘

’آج کے بعد مجھے اس اسلحے کی ضرورت نہیں ہے، مسلح گروہوں کو بن غازی سے نکال باہر کر دیا گیا ہے اور قومی فوج ہماری حفاظت کرے گی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔