ماریکانہ کان شوٹنگ: تفتیش کا آغاز

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 13:57 GMT 18:57 PST
ماریکانہ کان

ماریکانہ کان میں ہوئی پولیس فائرنگ میں چوتیس افراد ہلاک ہوئے تھے

اگست کے مہینے میں جنوبی افریقہ کی ماریکانہ کان میں کشیدگی کے بعد فسادات میں پولیس کی فائرنگ سے چونتیس افراد کی ہلاکتوں کے واقعے کی عدالتی تفتیش شروع ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کے احکامات پر یہ عدالتی تفتیش شروع ہوئی ہے۔

عدالتی تفتیش میں اس بات کی انکوائری ہوگی کہ شوٹنگ کے اس واقعے میں پولیس، ماریکانہ کان کی انتظامیہ، حکومت اور کان کی یونین کا کیا کردار رہا ہے۔

تفتیش میں ان دس افراد کی ہلاکت کی وجوہات کے بارے میں پتہ لگایا جائے گا جو پولیس فائرنگ کے واقع سے پہلے احتجاج کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

تفتیش کرنے والا عدالتی کمیشن تین ممبران پر مشتمل ہے جس کی قیادت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایان فارلام کر رہے ہیں۔ کمیشن اپنی تفتیش چار مہینے میں مکمل کر لے گا۔

اطلاعات کے مطابق کمیشن کو اپنی رپورٹ چار مہینے کے اندر اندر ہی پیش کرنی ہے۔

اگست کے مہینے میں ماریکانہ کی پلاٹینیئم کان میں احتجاج اور کشیدگی کے دوران چھالیس افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن تفتیش صرف چوالیس ہلاکتوں کی جائے جا رہی ہے کیونکہ دو ہلاکتیں کے تفتیش کے دائرے میں نہیں آتی ہیں۔

جنوبی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ملٹن کوسی کا کہنا ہے کہ پولیس فائرنگ کی ویڈیو فوٹیج کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے اس سے قبل گزشتہ ماہ کے اوآخر میں ماریکانہ کی پلاٹینیئم کان کے مزدوروں نے تنخواہوں میں بائیس فی صد اضافے کے معاہدے کے بعد دوبارہ کام شروع کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔

اس کان میں کان کنوں کی ہڑتال کے سبب گزشتہ چھ ہفتوں سے کام بند تھا۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں کان کے مالک لونمن نامی کمپنی اور ہڑتال کرنے والے کان کنوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کان کنوں کی اجرت میں بائیس فیصد کا اضافہ کر دیا جائےگا۔

پلاٹینیئم کی اس کان پر کئی ہفتوں سے تنخواہوں پر تنازع جاری تھا اور اطلاعات کے مطابق جب کمپنی نے اجرت بڑھانے پر اتفاق کیا تو احتجاجی کان کنوں نے خوشی کا جشن منایا۔

مزدوروں کامطالبہ تھا کہ انہیں ساڑھے بارہ ہزار رینڈ یعنی تقریبا ڈیڑھ ہزار ڈالر تک ماہانہ تنخواہ ملنی چاہیے۔ فی الوقت تک کان کنان کی تنخواہ اس سے بہت کم یعنی مقامی کرنسی میں چار یا پانچ ہزار رینڈ ہی ملتے رہے ہیں۔

کمپنی کو امید ہے کہ چھ ہفتے سے کام نہ ہونے کے سبب اسے جو نقصان پہنچا ہے کام کی دوبارہ شروعات سے اس کی کچھ حد تک تلافی کی جا سکے گی۔

جنوبی افریقہ کی کانیں پلاٹینیئم اور دیگر قیمتی معدنیات کے لیے دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں اور ہڑتال سے حکومت کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل ملک کے صدر جیکب زوما نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان واقعات کی وجہ سے تقریباً نصف ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

دارالحکومت جوہانسبرگ کے شمال مغرب میں واقع ماریکانہ کان میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے واقعے کے بعد ملک میں شدید رنج و غم کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔