’باغیوں کی حمایت، دہشتگردی کی حمایت کے برابر‘

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 17:54 GMT 22:54 PST

بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ شام کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت ہے: ولید المعلم

شام نے امریکہ سمیت پانچ ممالک کی جانب سے شامی حکومت کے مخالف باغیوں کی حمایت کو دہشتگردی کی حمایت کے مترادف قرار دیا ہے۔

شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے یہ بات پیر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہی۔

انہوں نے اپنی تقریر میں امریکہ، فرانس، ترکی، سعودی عرب اور قطر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ولید المعلم کا کہنا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ شام کے اندرونی معاملات میں ’صریح مداخلت‘ ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکام سے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام سے نرم رویہ اپنائیں۔ بان کی مون کے ترجمان کے مطابق شامی وزیرِ خارجہ سے ملاقات میں سیکرٹری جنرل نے شامی حکومت کی جانب سے تباہی اور ہلاکتوں کا معاملہ سخت الفاظ میں اٹھایا۔

شامی وزیرِ خارجہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ اور فرانس نے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر باغیوں کو رقم اور ہتھیار فراہم کر کے قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’سلامتی کونسل کے مستقل ارکان جو دہشتگردی سے نمٹنے کے بہانے سے جنگیں شروع کر چکے ہیں اب میرے ملک میں دہشتگردی کی حمایت کر رہے ہیں اور انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا کوئی پاس نہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ سلامتی کونسل باغیوں کی جانب سے بموں کے استعمال کی مذمت کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ اس کے چند ارکان ایسے اعمال کے حامی ہیں۔

"سلامتی کونسل کے مستقل ارکان جو دہشتگردی سے نمٹنے کے بہانے سے جنگیں شروع کر چکے ہیں اب میرے ملک میں دہشتگردی کی حمایت کر رہے ہیں اور انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا کوئی پاس نہیں۔"

ولید المعلم

اقوامِ متحدہ میں شامی وزیرِ خارجہ کی تقریر سے قبل شام سے تازہ تشدد کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

پیر کو ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں تقریباً سو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی ویڈیوز میں جلی ہوئی لاشیں دکھائی گئی ہیں جن میں سے کئی بچوں کی لاشیں ہیں۔

سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب اور اس کے گردو نواح میں ہوئی ہیں جہاں باغیوں نے گزشتہ ہفتے ہی حکومتی فوجیوں کے خلاف نئی کارروائی شروع کی تھی۔

پیر کو حلب کے پرانے شہر میں واقع اس قدیم بازار کے اردگرد شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جو اختتامِ ہفتہ پر آتشزدگی سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔

برطانیہ سے کام کرنے والے ایک شامی گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیر کو وسطی شام میں حمص سے پلمیرا جانے والے فوجیوں پر باغیوں کے حملے میں اٹھارہ فوجی اور ملک کے شمال مغربی قصبے ثلقن میں شامی فضائیہ کے حملے میں تیس شہری مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔