فرانس میں انسدادِ دہشتگردی کا نیا قانون

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 23:55 GMT 04:55 PST

فرانسیسی شہری محمد مراح نے تین بچوں سمیت سات افراد کو ہلاک کیا تھا

فرانسیسی حکومت نے ایک ایسے قانون کا مسودہ تیار کر رہی ہے جس کی رو سے ان افراد پر مقدمہ چلایا جا سکے گا جنہوں نے کسی غیر ملک میں شدت پسندی کی تربیت حاصل کی ہو۔

مسودۂ قانون کے تحت کسی غیر ملک میں دہشتگردوں کے تربیتی کیمپ میں شرکت کی سزا زیادہ سے زیادہ دس سال قید رکھی جائے گی۔

اس نئے قانون کے تحت حکام کو ایسے افراد کی نگرانی کا اختیار بھی مل جائے گا جن پر انتہا پسند خیالات کی ترویج کرنے والی ویب سائٹس چلانے کا شبہ ہوگا۔

یہ قانون تولوز نامی شہر میں فرانسیسی شہری محمد مراح کے ہاتھوں تین بچوں سمیت سات افراد کی ہلاکت کے چھ ماہ بعد لایا جا رہا ہے۔

محمد مراح کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس نے دہشتگردی کی تربیت پاکستان اور افغانستان میں قائم تربیتی کیمپوں میں حاصل کی تھی۔

فرانسیسی حکام پر مراح کے بارے میں خفیہ معلومات نظرانداز کرنے پر تنقید کی گئی تھی کیونکہ انہیں دو ہزار نو سے مراح کے غیر ملکی اسلامی شدت پسندوں سے تعلقات کا علم تھا۔

مراح ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک سے تعلق رکھتا تھا جو بیس مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔

فرانسیسی حکومت کی ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر فرانسوا اولاند کی حکومت کو امید ہے کہ پارلیمان رواں سال کے اواخر تک اس بل کی منظوری دے دے گی

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فرانس میں دہشتگردی کے خطرے کا درجہ اب بھی شدید تر درجے پر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔