صدارتی انتخاب سے جڑے پانچ اہم سوال

آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 اکتوبر 2012 ,‭ 02:49 GMT 07:49 PST

امریکہ میں چھ نومبر دو ہزار بارہ کو صدارتی انتخاب منعقد ہو رہا ہے جس میں موجودہ صدر براک اوباما دوسری مدتِ صدارت کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار ہیں جبکہ ان کا مقابلہ ریپبلکن جماعت کے مٹ رومنی سے ہے۔

کلِک صدارتی انتخاب: کانٹے کے مقابلے کہاں کہاں متوقع

یہاں پر اس صدارتی انتخاب سے جڑے پانچ اہم حقائق دیے جا رہی ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟

ووٹنگ پر تحقیق کرنے والے ادارے راسميسن کے مطابق ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے اسّی فیصد لوگوں کے لیے ملک کی معیشت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

جمی کارٹر اور جارج بش سینیئر نے جب وائٹ ہاؤس چھوڑا تھا اس وقت امریکی معیشت مشکلات سے گزر رہی تھی اور ایسے ہی وقت میں بل کلنٹن صدر بنے تھے۔

گزشتہ تینتالیس مہینوں سے ملک میں بےروزگاری آٹھ فیصد سے بھی زیادہ رہی ہے اور سولہ کھرب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

امریکہ میں بےروزگاری آٹھ فیصد سے بھی زیادہ رہی ہے

راسميسن کے مطابق، ’روزگار اس مسئلے کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس سے متاثر صرف وہ لوگ نہیں جو بے روزگار ہیں بلکہ وہ اٹھائیس فیصد لوگ بھی ہیں جنہیں ڈر ہے کہ ان کی نوکری جا سکتی ہے‘۔

اس کے باوجود براک اوباما اس الیکشن میں کسی معنی میں پیچھے نظر نہیں آ رہے جو تجزیہ نگاروں کو حیران کر رہا ہے۔

لیکن الیکشن صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے۔ جن لوگوں کو لگتا ہے اوباما نے اچھا کام نہیں کیا انہیں مٹ رومني سے بھی اچھا کام کرنے کی امید نہیں ہے۔ کچھ لوگ تو اب بھی ان حالات کے لیے صدر بش کو قصور وار مانتے ہیں۔

راسميسن کے مطابق، ’امریکیوں کو نہیں لگتا کہ ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے، نہ ہی یہ کہ ان کی حالت پہلے سے خراب، اس لیے اس الیکشن میں مقابلہ سخت ہے‘۔

سوئنگ سٹیٹس کیوں اہم ہیں ؟

ڈانواڈول ریاستیں یا ایسی ریاستیں جہاں ووٹروں کے فیصلے بدلتے رہتے ہیں امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج پرگہرا اثر ڈالتی ہیں۔

انتخابات کے دوران امریکہ دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ ایک وہ جہاں انتخابی سرگرمیاں حاوی رہتی ہیں اور دوسرا وہ جہاں زندگی عام طریقے سے چلتی رہتی ہے۔

دراصل امریکہ کی زيادہ تر ریاستیں یا تو ریپبلکنز کی حامی ہیں یا پھر ڈیموکریٹس کی اور ان کے فیصلے بنیادی طور پر بدلتے نہیں ہیں۔

انتخاب کے نتائج پر اثر ہوتا ہے ان ریاستوں کا جنہیں ’سوئنگ امریکہ‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ ریاست جہاں ووٹروں کے فیصلے بدلتے رہتے ہیں۔

اوہائیو میں اٹھارہ الیکٹورل ووٹ ہیں جو دونوں جماعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں

اوہایو اس کی اہم مثال ہے۔ یہاں کی بے روزگاری کی شرح قومی شرح سے کافی کم ہے۔ اس ریاست کی خصوصیت یہ ہے کہ سنہ 1960 سے لے کر اب تک ہوئے انتخابات میں اس نے ہر بار اسی امیدوار کے لیے ووٹ دیا ہے جو انتخاب جيتا ہے۔

اوہائیو میں اٹھارہ الیکٹورل ووٹ ہیں جس کی وجہ سے دونوں ہی جماعتیں یہاں ووٹروں کو متاثر کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر دیتی ہیں۔

ریاست کی بولنگ گرین یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے سینتیس سالہ ٹم گڈي کہتے ہیں، ’گزشتہ انتخابات کے دوران میں انڈیانا میں تھا لیکن وہاں امن تھا۔ اوہایو میں مسلسل آنے والی فون كالیں ہیں، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اس پورے عمل میں دلچسپی لیتے ہیں‘۔

کس کا ووٹ سب سے اہم؟

صدارتی انتخابات میں ہسپانوی برادری کے ووٹ کافی اہم ہیں۔

ہر سال امریکہ میں ہسپانوی برادری سے پچاس ہزار نئے ووٹر بنتے ہیں جو اس قوم کو بہت اہم بنا دیتا ہے۔

سنہ 2010 میں ہسپانوی کمیونٹی کی آبادی پانچ کروڑ ہو گئی تھی، جو امریکہ کی کل آبادی کا 13 فیصد ہے اور 2030 تک یہ 22 فیصد ہو جائے گی۔

ہسپانوی نژاد آبادی امریکہ کی کل آبادی کا تیرہ فیصد ہے

امریکی صدر کے عہدے کے لیے یہ پہلا انتخاب ہے، جس میں دونوں امیدواروں نے ہسپانوی ٹی وی کے امیگریشن پالیسیوں سے وابستہ پروگرام میں حصہ لیا۔

یونیورسٹی آف نیو میکسیکو میں لاطینی سیاست موضوع کے ماہر گبريئل سانچیز کہتے ہیں، ’2008 کے انتخابات میں براک اوباما کو اڑسٹھ فیصد لاطینی ووٹ ملے تھے جو اس سال بھی ملنے کی پوری امید ہے‘۔

امیگریشن کی پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن امیدوار مٹ رومني کافی سخت موقف رکھتے ہیں جس سے انہیں نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے حالانکہ ان کی ہی پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے ان سے اشاروں میں اپنا رویہ تبدیل کرنے کو کہا ہے۔

خارجہ پالیسی پر کیا رخ ہے؟

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں خارجہ پالیسی ایک اہم معاملہ ہوتا ہے۔ امریکی ووٹر جب ووٹ کرتا ہے تو ملک کی خارجہ پالیسی اس کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہے۔

لیبیا میں تعینات امریکی سفیر کرسٹوفر سٹيونز کے قتل کے بعد یہ مسئلہ پھر سے انتخابی مہم پر حاوی ہے۔ اس وقت امریکہ کے ایران، اسرائيل اور افغانستان جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات پر پھر سے بحث شروع ہو گئی ہے۔

مٹ رومني نے سٹيونز کی موت کے بعد امریکی صدر براک اوباما کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر اسرائيل سے غداری کرنے اور ایران کا ساتھ دینے کا الزام لگایا تھا۔

پوری دنیا کی نظر اس بات پر لگی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں آنے والا صدر کون ہوگا

رومني نے ’ کرنسی میں ہیرپھیر‘ کے موضوع پر چین کے ساتھ بھی سختی سے نمٹنے کی بات کی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

کیلیفورنیا ریور سائیڈ یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر شان بولر کے مطابق،’امریکہ جیسے متنوع ملک میں خارجہ پالیسی ہمیشہ ہی ایک بڑا مسئلہ رہے گی۔ مثال کے طور پر آپ یہاں عرب نژاد امريكيوں کو فلسطین جبکہ كيوبائي نژاد امريكيوں کو کیوبا کے مسئلے پر کافی متاثر ہوتے دیکھیں گے‘۔

ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائيل کے ردعمل کے علاوہ شام کے حالات کی وجہ سے بھی امریکی سیاست میں خارجہ پالیسی ایک بڑا مسئلہ ہوگی۔

پوری دنیا کی نظر اس بات پر لگی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں آنے والا صدر کون ہوگا کیونکہ امریکی صدر کے فیصلوں کا اثر پوری دنیا پر ہوتا ہے۔

5۔ کس کے ہاتھ آئے گی سینیٹ کی چابی؟

اس وقت سینیٹ کا کنٹرول ڈیموكریٹس کے ہاتھ میں ہے

چھ نومبر کو ہونے والی پولنگ کے دوران صرف امریکہ کے صدر کا ہی نہیں بلکہ ایوانِ نمائندگان کے تمام ارکان اور سینیٹ کے ایک تہائی اراکین کا انتخاب بھی ہوگا۔

حالانکہ ان عہدوں کے لیے ہونے والے انتخابات کی مزید بات نہیں ہوئی ہے لیکن اس کا اوباما اور رومني کی جیت پر کافی اثر ہوگا۔

امریکی پارلیمنٹ میں ایوانِ نمائندگان کی کمان ری پبلکن اراکین پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے تو سینیٹ کا کنٹرول ڈیموكریٹس کے ہاتھ میں اور اس کا اثر دو ہزار گیارہ کے سیشن پر بھی پڑا جس میں کافی کم بل پاس ہوئے تھے۔

شان بولر کے مطابق،’امریکہ میں کوئی بھی قانون بنانے میں کافی طویل وقت لگتا ہے اور ایسا ایک پارٹی کی حکومت ہونے کے بعد بھی ہوتا ہے۔ یہ امریکی سیاست کا ایک خاص پہلو ہے جو اسے دوسرے یورپی ممالک سے الگ کرتا ہے‘۔

لیکن سابق صدر بل کلنٹن نے ٹی وی چینل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہہ کر امید کی ایک کرن جگا دی ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس بار امریکی پارلیمنٹ کا ماحول مزید دوستانہ ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔