صدارتی مباحثہ:’رومنی نے بددیانتی کا مظاہرہ کیا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 21:46 GMT 02:46 PST

براک اوباما کی انتخابی مہم کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کے اشارے دیے گئے ہیں

امریکہ میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل پہلے صدارتی مباحثے کے بعد موجودہ صدر اور ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار براک اوباما نے اپنے حریف رپبلکن امیدوار مٹ رومنی پر بددیانتی کا الزام عائد کیا ہے۔

ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں مباحثے کے بعد ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ مٹ رومنی کو اپنی پالیسیوں کے بارے میں سچائی سے کام لینا چاہیے۔

بدھ کی شب ہونے والے اس مباحثے کو چالیس ملین امریکیوں نے ٹی وی پر دیکھا تھا۔ نوے منٹ تک جاری رہنے والے مباحثے میں ٹیکس، خسارہ اور ہیلتھ کیئر پر بحث ہوئی۔

امریکہ میں جائزوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق پہلے صدارتی مباحثے میں مٹ رومنی فاتح قرار پائے ہیں جبکہ براک اوباما کی انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ چھ نومبر کو انتخاب سے قبل حکمتِ عملی میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی۔

بارہ ہزار کے مجمع سے خطاب کے دوران براک اوباما نے کہا ’میں جب سٹیج پر پہنچا تو وہاں ایک پرجوش شخص ملا جو خود کو مٹ رومنی کہہ رہا تھا۔ لیکن وہ رومنی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اصل مٹ رومنی کو گزشتہ سارا سال ملک بھر میں گھوم کر ٹیکس میں پانچ کھرب کی ایسی کٹوتیوں کی بات کرتا رہا ہے جن سے دولتمندوں کو فائدہ ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’سٹیج پر موجود شخص تو یہ کہہ رہا تھا کہ اسے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں‘۔ مٹ رومنی نے مباحثے کے دوران بارہا انکار کیا کہ انہوں نے ایسا کچھ کہا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور اپسوس کے جائزے کے نتائج کے مطابق اس مباحثے کے بعد صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران پہلی مرتبہ مٹ رومنی کی ریٹنگ مثبت آئی ہے۔

پول کے مطابق مباحثے کے دوران اکیاون فیصد ووٹرز نے ان کی باتوں کو مثبت انداز میں لیا تاہم اب بھی وہ اس معاملے میں براک اوباما سے پانچ فیصد کے فرق سے پیچھے ہی رہے۔

تاہم مٹ رومنی کے لیے حوصلہ افزاء بات زیادہ ووٹرز کا معیشت سنبھالنے، روزگار کی تخلیق اور خسارے میں کمی کے لیے انہیں موزوں امیدوار سمجھنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بحث میں مٹ رومنی پر اعتماد نظر آئے جبکہ صدر اوباما ہچکچا رہے تھے۔

"میں جب سٹیج پر پہنچا تو وہاں ایک پرجوش شخص ملا جو خود کو مٹ رومنی کہہ رہا تھا۔ لیکن وہ رومنی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اصل مٹ رومنی کو گزشتہ سارا سال ملک بھر میں گھوم کر ٹیکس میں پانچ کھرب کی ایسی کٹوتیوں کی بات کرتا رہا ہے جن سے دولتمندوں کو فائدہ ہوگا۔ سٹیج پر موجود شخص تو یہ کہہ رہا تھا کہ اسے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔"

براک اوباما

یاد رہے کہ اوباما کو قومی سطح پر ہونے والے سروے اور سوئنگ ریاستوں میں ہونے والے سروے میں برتری حاصل ہے۔

یہ مباحثہ مٹ رومنی کے لیے بہت اہم تھا کیونکہ ان کو حالیہ انتخابی مہم میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

صدارتی امیدوار رومنی نے کہا ’صدر کے خیالات ابھی بھی بہت حد تک ان خیالات سے مماثلت رکھتے ہیں جو ان کے چار سال قبل تھے۔ یعنی اخراجات میں اضافہ کرو، ٹیکسوں میں اضافہ اور ریگولیٹ کرو۔ یہ خیال امریکی عوام کے لیے اچھی نہیں ہے۔‘

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ امیروں کے لیے ٹیکسوں میں کمی نہیں کریں گے۔انہوں نے صدر اوباما پر بجٹ کے خسارے کو آدھا کرنے کے کے وعدے کے حوالے سے تنقید کی جو اوباما نے 2008 میں کیا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو یونان یا سپین جیسے حالات تک پہنچنے نہیں دیں گے۔

صدر اوباما نے اپنے حریف کی تنقید کے جواب میں رومنی کے اس وعدے کا ذکر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ٹیکس میں اضافہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے رومنی کی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی کو غیر متوازی قرار دیا۔’اگر آپ نے خسارہ کم کرنا ہے تو اس کے لیے آمدنی ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ تیل کی کمپنیوں اور کارپوریٹ جیٹس دی جانے والی ٹیکس میں چھوٹ کو ختم کریں گے۔

مباحثے میں صدارتی امیدواروں نے ہیلتھ کیئر پر بھی بحث کی۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر مارک مرڈل کا کہنا ہے کہ مباحثے میں مٹ رومنی نے اس مباحثے کے ماڈریٹر کے ساتھ کئی بار وقت ختم ہونے کے حوالے سے بحث کی اور کئی بار صدر اوباما کو ٹوکا۔

"صدر کے خیالات ابھی بھی بہت حد تک ان خیالات سے مماثلت رکھتے جو ان کے چار سال قبل تھے۔ یعنی اخراجات میں اضافہ کرو، ٹیکسوں میں اضافہ اور ریگولیٹ کرو۔ یہ خیال امریکی عوام کے لیے اچھی نہیں ہے۔"

مٹ رومنی

دوسری جانب مباحثے کے آغاز میں صدر اوباما نروس نظر آئے اور وست گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا اعتماد بحال ہوا۔ لیکن انہوں نے سوالات کے جوابات ایک لیکچر کی طرح دیے۔

ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی نے صدر اوباما کی حکومت کی معاشی کارکردگی کو ایک عرصے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق اس مرتبہ امریکہ میں صدر کے عہدے کے لیے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار اور موجودہ صدر براک اوباما کو ان ریاستوں میں برتری حاصل ہے جنہیں اصل انتخابی میدان قرار دیا جاتا ہے۔

این بی سی نیوز اور وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے منگل کو شائع کیے جانے والے قومی جائزے کے نتائج کے مطابق اس وقت مٹ رومنی کو چھیالیس جبکہ براک اوباما کو انچاس فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق ریپبلکن امیدوار اور ریاست میساچوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنی کو اس مباحثے میں بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔

مٹ رومنی کی مقبولیت گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس ویڈیو کے سامنے آنے سے متاثر ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سینتالیس فیصد امریکی جو انکم ٹیکس نہیں دیتے خود کو متاثرین میں شمار کرتے ہیں اور وہ حکومتی مدد پر انحصار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔