مصر میں ’انقلابیوں‘ کے لیے عام معافی

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 03:15 GMT 08:15 PST

قتل کے ملزمان پر اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا

مصر کے صدر محمد مرسی نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف چلائی گئی تحریک کے دوران حراست میں لیے جانے والے تمام افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔

مصری صدر کے سرکاری فیس بک صفحے پر شائع ہونے والے پیغام کے مطابق ان تمام اعمال کے لیے معافی دی گئی ہے جو انقلاب کی مدد کے نظریے کے تحت سرانجام دیے گئے تھے۔

اس عام معافی کے نتیجے میں مصری جیلوں سے ہزاروں افراد کی رہائی متوقع ہے۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے گزشتہ برس فروری میں اٹھارہ دن کی حکومت مخالف تحریک کے بعد اقتدار چھوڑ دیا تھا۔

اس تحریک کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے اور عدالت نے رواں برس جون میں حسنی مبارک ان ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

عام معافی کا اطلاق تحریک کے آغاز کے دن یعنی پچیس جنوری دو ہزار گیارہ سے ہوگا اور اس کے تحت رواں برس جون تک حراست میں لیے جانے والے افراد آئیں گے۔

صدارتی حکم کے تحت نہ صرف ان افراد کو معافی دی گئی ہے جو سزا کاٹ رہے ہیں بلکہ وہ افراد بھی معافی کے حقدار ہیں جو ابھی مقدمہ چلائے جانے کے منتظر ہیں۔

تاہم قتل کے ملزمان پر اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق صدارتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل اور فوجی استغاثہ ایک ماہ کے اندر ان افراد کی فہرست سامنے لائیں جنہیں معاف کر دیا گیا ہے۔

محمد مرسی رواں برس جون میں مصر کے پہلے جمہوری طور پر منعقدہ صدارتی انتخاب کے نتیجے میں ملک کے سربراہ بنے تھے۔

.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔