’عالمی معاشی بحالی سست روی کا شکار‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 03:58 GMT 08:58 PST

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ای ایس نے ایم قرضوں کے بحران سے نمٹنے اور اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ عالمی معاشی بحالی سست ہو رہی ہے کیونکہ سرکاری پالیسیاں اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ معاشی صورتِ حال خطرناک ہے اور اس خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایم ایف نے سنہ دو ہزار تیرہ میں اپنے عالمی شرحِ نمو میں اضافے کے تخمینے کو تین اعشاریہ نو سے کم کر کے تین اعشاریہ چھ کر دیا ہے۔

سب سے بڑی کمی برطانوی معیشت میں آئی جس کے بارے میں آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ یہ اس سال سکڑ کر صفر اعشاریہ چار فیصد رہ جائے گی۔

اس کے مقابلے پر جولائی میں ادارے نے کہا تھا برطانوی معیشت صفر اعشاریہ دو کی شرح سے بڑھے گی۔ اگلے برس برطانوی معیشت ایک اعشاریہ ایک کی شرح سے بڑھے گی جب کہ جولائی میں ادارے کا خیال تھا کہ یہ شرح ایک اعشاریہ چار فیصد ہو گی۔

اس پیش گوئی کے ردِ عمل میں برطانوی وزارتِ خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اپنی تجویز دہرائی ہے کہ کم ہوتی ہوئی شرحِ نمو کے خلاف پہلا بچاؤ یہ ہونا چاہیے کہ خودکار استحکام پذیروں (آٹومیٹک سٹیبلائزرز) کو کام کرنے دیا جائے، مالیاتی پالیسیوں میں نرمی لائی جائے اور رقم کے بہاؤ میں آسانی پیدا کی جائے۔ برطانیہ یہ تمام کام کر رہا ہے۔‘

مالیاتی ادارے نے رواں سال میں تین اعشاریہ تین پانچ کی عالمی شرحِ نمو کی جو پیش گوئی کی تھی اب اسے کم کر کے تین اعشاریہ تین کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ مجموعی طور پر ’ترقی یافتہ ملکوں میں معاشی پیداوار سست، لیکن ترقی پذیر ملکوں اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں نسبتاً مستحکم رہے گی۔‘

"ترقی یافتہ معیشتوں میں شرحِ نمو اتنی کمزور ہے کہ اس سے بے روزگاری میں نمایاں کمی نہیں لائی جا سکتی۔"

آئی ایم ایف

ادارے نے کہا کہ صورتِ حال کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ اور یورپ کے پالیسی ساز کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔

اس سے یورپی استحکام کے مکینزم (ای ایس ایم) کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ یہ یورو زون کا نیا مستقل فنڈ ہے جو مشکلات کی شکار معیشتوں اور بینکوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے پیر کے روز قائم کیا گیا تھا۔ فنڈ نے کہا تھا کہ تمام یورو زون میں ٹیکسوں اور اخراجات کی پالیسیوں کے زیادہ بہتر انضمام اور ایک بینکنگ یونین بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا ’ای سی ایم کو بینکنگ نظام میں مداخلت کر کے کرنسیوں کو تقویت فراہم کرنی چاہیے، جب کہ قومی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ صحیح معنوں میں معاشی اور مالیاتی اتصال کے لیے کام کریں۔‘

آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومتوں کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔

ادارے نے کہا کہ ’مکانوں کے قرضوں کا بوجھ کم کرنا مسئلے کی پوری وسعت کا احاطہ نہیں کرتا، جب کہ مالیاتی اداروں اور منڈیوں کے انضباطی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوششیں ناہموار رہی ہیں۔‘

ادارے نے مزید کہا کہ اگرچہ بینکوں کے سرمایے میں اضافے کی کوششوں کو کسی حد تک کامیابی ملی ہے، لیکن مالیاتی منڈیوں کی طرف سے ضرورت سے زیادہ خطرہ مول لینے کے مسئلے کے حل کے لیے خاطر خواہ کوششیں نہیں کی گئیں۔

آئی ایم ایف نے طویل مدت بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کے کوششوں کا بھی مطالبہ کیا: ’ترقی یافتہ معیشتوں میں شرحِ نمو اتنی کمزور ہے کہ اس سے بے روزگاری میں نمایاں کمی نہیں لائی جا سکتی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔