جرمنی کی حکومت ختنہ کے حق میں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 13:47 GMT 18:47 PST

جرمنی کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔

جرمنی کی حکومت نے ختنہ جیسی مذہبی روایت پر جاری قانونی تعطل کو دور کرنے کے لیے اس قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ختنہ کرنے کی باقاعدہ اجازت ہوگي۔

ملک کی کابینہ نے اس قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ختنہ کرنے کی روایت کو جاری رکھا جائیگا۔

چند ماہ قبل کولون کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ صرف مذہبی بنیادوں پر نوزائیدہ بچوں کا ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہے۔

اس فیصلے کے بعد جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تمام ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ وہ بچوں کا ختنہ نہیں کریں سوائے اس کے کہ جب یہ عمل طبی طور پر ضروری ہو۔

جرمنی کے یہودیوں اور مسلم تنظیموں نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی اس مذہبی روایت کا بھرپور دفاع کریں گے۔

جولائی میں جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کے ترجمان نے کہا تھا کہ حکومت اس مسئلے کو قانون سازی سے حتمی شکل دینا چاہتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق چونکہ پارلیمان کے بیشتر ارکان ختنہ کرنے کی اجازت دینے کے حق میں ہیں اس لیے اس مجوزہ قانون میں اسے قانونی شکل دے دی جائیگی۔

توقع ہے کہ جرمنی کی پارلیمان اس برس کے اختتام سے پہلے ہی اس قانون کو منظور کرلیگی۔

نئے قانون میں والدین کو خطرات سے آگاہ کر کے تربیت یافتہ شخص کو ختنہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ نامہ نگاروں کے مطابق جن برادریوں میں ختنہ کی روایت ہے وہ پہلے ہی سے ان کی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔

اس سے پہلے جرمنی میں اراکینِ پارلیمان نے بھی ختنے سے متعلق ایک قرارداد کو منظور کرنے کی بات کہی تھی اور اطلاعات کے مطابق اِس قرارداد کو پارلیمان میں ہر جماعت کی حمایت حاصل تھی۔

پارلیمان میں جو قرارداد پیش کی گئی تھی اس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ لڑکوں کے ختنہ کی اجازت سے متعلق قانون بنائے۔

اِس سے پہلے یورپ کی یہودی اور مسلمان تنظیمیں اِس ایک معاملے پر متحد ہوگئی تھیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر جرمنی کے قانون سازوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بچوں کے ختنہ کے حق کا تحفظ کریں۔

جرمنی کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی عدالت کے اِس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

جرمنی کی حکومت عدالت کے فیصلے سے پریشان رہی ہے خاص طور پر اس طرح کے الزامات کے بعد کہ اس ملک میں جہاں ’ہولوکاسٹ‘ یا یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اب وہاں ان کے بنیادی عقائد کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا تھا کہ عدالت کے اِس فیصلے سے دنیا بھر میں جرمنی کا مذاق اڑے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔