بچوں کے جریدے میں پیٹرول بم بنانے کا طریقہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 03:40 GMT 08:40 PST

قوسِ قزح تیونس میں بچوں کا مقبول میگزین ہے

تيونس میں حکام نے بچوں کے اس مقبول جریدے کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں مبینہ طور پر پیٹرول بم بنانا سکھایا گیا ہے۔

یہ مضمون ’قوسِ قزح‘ نامی جریدے میں چھپا ہے اور یہ میگزین پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے ہے۔

خواتین اور خاندانی امور کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس مضمون سے ’تشدد اور دہشت گردی کے نظریات کو فروغ ملتا ہے‘۔

میگزین میں پٹرول بم کی تاریخ اور اس کے استعمال کو ظاہر کرنے کے لیے ایک شیشہ کی بوتل کو جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

یہ مضمون جریدے کے ’شعبۂ معلومات‘ میں شائع ہوا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’پیٹرول بم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا استعمال اکثر فسادات میں کیا جاتا ہے۔ اسے بنانا اور استعمال کرنا نہایت آسان ہے‘۔

خاندانی امور کی وزارت کا کہنا ہے کہ میگزین ’تشدد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں پٹرول بموں کے استعمال کو فروغ دے کر بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہا ہے‘۔

وزارت کا کہنا ہے کہ وہ مجسٹریٹ سے میگزین کے ناشرین اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کو کہے گی۔

تيونس میں حالیہ انقلاب کے بعد طویل عرصے تک اقتدار میں رہے صدر زین العابدین بن علی کو ملک چھوڑنا پڑا تھا۔

تاہم انقلاب کے باوجود تيونس میں عوام اب بھی بدعنوانی اور اقتصادی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے کچھ حصوں میں اسلامی شدت پسند سر اٹھا رہے ہیں۔ ملک میں کئی مقامات پر پرتشدد واقعات بھی ہوئے ہیں جن میں اکثر پٹرول بم استعمال کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔