چین: جبری بے دخلی کے واقعات میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 06:12 GMT 11:12 PST

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چین میں مقامی حکام کی جانب سے عوام کو ان کی زمین سے بےدخل کرنے اور پھر اس زمین کو تعمیراتی کمپنیوں کو فروخت کرنے کے واقعات میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں اکثر متاثرین کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں ہراساں کیا جاتا ہے جو ’انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے‘۔

ایمنسٹی کے مطابق چین میں مقامی اہلکاروں کی جانب سے ایسے واقعات کی وجہ ان پر اقتصادی مقاصد اور مفادات حاصل کرنے کے لیے پڑنے والا دباؤ بھی ہے۔

چین میں جبری بےدخلی کے ان واقعات کی وجہ سے سماجی بےچینی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

چین میں تمام زمین پر عملاً حکومت کا کنٹرول ہے اور قانون مقامی حکومتوں کو شہری ترقی کے منصوبوں کے لیے زمین حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ہانگ کانگ میں ایمنسٹی کی سینیئر ڈائریکٹر برائے تحقیق نکولا ڈک ورتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی حکام زمینوں کی ضبطگی اور پھر ان کی فروخت سے حاصل شدہ رقم ان قرضوں کی واپسی کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو برے اقتصادی حالات کے دوران لیے گئے تھے۔

’چین کی کمیونسٹ جماعت ان حکام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو بظاہر کسی بھی قیمت پر ترقی ہوتی دکھاتے ہیں اور سڑکوں، کارخانوں، رہائشی عمارتوں جیسی چیزوں کی تعمیر واضح طور پر دکھائی دیے جانے والے نتائج ہیں‘۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نظام کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کے راستے کھلے ہیں اور جبری بےدخلی کا شکار افراد کو بہت کم وقت دیا جاتا ہے اور انہیں اپنی زمین کی اصل قیمت کا معمولی حصہ ہی بطور زرِ تلافی مل پاتا ہے۔

تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات کی وجہ سے مقامی آبادی اور پولیس یا نجی محافظین کے مابین کئی مرتبہ پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

"لوگوں کی ان کے گھروں اور زرعی زمین سے ایسی حالت میں جبری بےدخلیاں کہ جب انہیں قانونی تحفظ بھی نہیں دیا جاتا، چین میں معمول بن چکی ہیں اور یہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیاں ہیں۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل

’لوگوں کی ان کے گھروں اور زرعی زمین سے ایسی حالت میں جبری بےدخلیاں کہ جب انہیں قانونی تحفظ بھی نہیں دیا جاتا، چین میں معمول بن چکی ہیں اور یہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیاں ہیں‘۔ایمنسٹی نے پچاسی صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کی تیاری میں چین اور بیرونِ ملک مقیم وکلاء، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دانشوروں سے بات چیت کی

رپورٹ میں جنوری دو ہزار نو سے جنوری دو ہزار بارہ کے درمیان جبری بے دخلی کے چالیس واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں سے نو واقعات ہلاکتوں پر منتج ہوئے۔

ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کی ان کے گھروں اور زرعی زمین سے ایسی حالت میں جبری بےدخلیاں کہ جب انہیں قانونی تحفظ بھی نہیں دیا جاتا، چین میں معمول بن چکی ہیں اور یہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیاں ہیں‘۔

نکولا ڈک ورتھ کے مطابق جبری بے دخلیوں کی وجہ سے چین میں خودسوزی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔’ ہمیں دو ہزار نو سے دو ہزار بارہ کے دوران خودسوزی کے اکتالیس واقعات کا پتہ چلا ہے‘۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین میں عوام کو ان کی املاک سے بے دخل کرنے والے افسران کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔ ایسا ایک واقعہ ووکان نامی صوبے میں پیش آیا جہاں دو ہزار بارہ میں مقامی آبادی کے احتجاج کے بعد دو افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا جبکہ دیگر کو بھی سزا ہوئی۔

ایمنسٹی نے چین سے جبری بےدخلی کے تمام واقعات فوری طور پر روکنے اور عالمی قوانین کے مطابق ایسے واقعات سے بچاؤ کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے دو ہزار گیارہ میں بنائے جانے والے اس چینی قانون کے عملاً نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے جس میں متاثرین کو مناسب زرِ تلافی دینے اور بے دخلی کے عمل میں تشدد کے استعمال کو ممنوع قرار دینے کی بات کی گئی ہے۔

چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ نے مارچ میں قومی عوامی کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ مکانات کے انہدام اور زمین پر قبضے سے متعلق مسائل بہت اہم ہیں اور لوگوں میں اس کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔